The Thursday Times’ Pakistani news section dives into the pulse of Pakistani politics, offering sharp analysis and timely updates on the decisions and debates shaping the nation’s future, from the corridors of power to grassroots movements.
سعودی عرب ترکیہ اور آذربائیجان کو نشانہ بنانے کی ایرانی کوششوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ خطہ میں ایرانی جارحیت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے جو ایران کے دشمنانہ انداز کو ظاہر کرتی ہے۔ ایران خطہ کو مزید کشیدگی کی جانب دھکیل رہا ہے۔
حذّر وزير الخارجية الباكستاني إسحاق دار نظيره الإيراني من شنّ أي هجمات على السعودية، مشيراً في ذلك إلى اتفاق الدفاع المشترك بين باكستان والسعودية. وفي وقتٍ سابق، أعرب رئيس الوزراء شهباز شريف خلال اتصال هاتفي مع ولي العهد السعودي عن تضامنٍ كامل مع المملكة.
مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے چیف جسٹس عمرعطا بندیال کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا کام قوموں کوبحرانوں سے سے نکالنا ہوتا ہے بحرانوں میں دھکیلنا نہیں ہوتا۔
ریفرنس کے مطابق چیف جسٹس نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے متعلق ازخود نوٹس کیس میں اپنی مرضی کا فیصلہ اکثریت کے ساتھ حاصل کرنے کیلئے ایک متنازع بینچ تشکیل دیا۔
جب میں پیمرا کا چیئرمین تھا تو کچھ جرنیلوں اور ججز نے پاکستان کے خلاف سازش تیار کی اور یہ سازش پاکستان کو چین سے دور کرنے کیلئے تھی، یہ پاکستان کو امریکی کیمپ میں شامل کرنے کیلئے تھی، یہ سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے تھی۔
جب الیکشن کا کیس چل رہا تھا تو سننے کو ملا کہ چیف جسٹس جذباتی ہو گئے۔ آپ کو اس وقت بھی جذباتی ہونا چاہیے تھا جب ایک منتخب وزیراعظم کو دفتر سے نکالا گیا، اقامے پر سزا دی، بیٹی کو باپ کا ساتھ دینے پر موت کی چکیوں میں ڈالا، رانا ثناء اللّٰہ پر منشیات اسمگلنگ کیس ڈالا گیا، طلال چودھری پر ظلم و جبر کیا گیا۔
چیف جسٹس وزیراعظم بھی بن چکا ہے، وزیرِ داخلہ بھی بن چکا ہے، وزیرِ دفاع بھی بن چکا ہے، چیف الیکشن کمشنر بھی بن چکا ہے، پارلیمنٹ بھی بن چکا ہے۔ ایک لاڈلے کیلئے ریاست کو مفلوج کر کے سب کچھ تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال افسوسناک ہے، پاکستان دردناک صورتحال سے گزر رہا ہے۔
عمران خان کے دورِ حکومت میں بیشتر حکومتی معاملات اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور چلاتے تھے، عمران خان انھی دو لوگوں پر انحصار کرتے تھے کیونکہ یہ عمران خان کیلئے آنکھ اور کان تھے۔
وزیراعظم میاں شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں الیکشن کے متعلق کیس میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔
عدالتوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، یہ مجھے 2017 کا تسلسل لگتا ہے کیونکہ 2017 میں ایسا ہی ایک بینچ بنا تھا جس نے ملک کا مستقبل تاریک کر دیا تھا۔ قوم آنکھیں کھولے، قوم کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہو رہا ہے۔