Who is the real leader?

The man who was forcibly removed remains the leader, guide and head of the people and of their elected representatives, while the favourite who was imposed on the people by force is accepted as leader neither by the public nor by its representatives.

Join the conversation

Translating from the Urdu… 1 of 3 Read the original

Listen to this articleWho is the real leader?2 min · device voice0:00 / 2:27

۔ 2022 سالہ جدوجہد کو 2018 میں اسوقت دوام بخشا گیا جب تحریک انصاف بالآخر جیسے تیسے کرکے حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی یا بنوا دی گئی کامیابی کا یہ سفر کیسے طے ہوا اسکی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ سب کچھ اب ایک کھلی کتاب بن چکا ہے۔

وزارت عظمی کے حصول کے جاری سفر میں آنیوالی سب سے بڑی رکاوٹ نواز شریف تھا جسکودھرنا ون اورٹو سے جب ہٹایا نہ جاسکا توپھر اسکو ہٹانے کیلئے پانامہ سے اقامہ کا سہارا لینا پڑا اسکو تاحیات نااہل کروانا پڑا اوربات یہیں تک نہ رکی نواز شریف کی جماعت کودوبارہ اقتدارمیں آنے سے روکنے کیلئے اسکے ساتھیوں کوڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی گئیں اورآخر کارالیکشن سے عین قبل نوازشریف کو اسکی بیٹی سمیت جیل بھیجنا پڑا۔

یہ سب کچھ تو کرلیا لیکن اس سب کے باوجود اسکی جماعت کے ایک بھی رکن اور ساتھی کوتوڑا نہ جاسکا نہ صرف یہ کہ اسوقت نہ توڑا جاسکا بالکہ تقریبا چاربرس تک تمام ظلم روا رکھنے کے باوجود نوازشریف کے ہرساتھی نے جھکنے سے انکارکردیا اورنتیجتا آج بھی مسلم لیگ ن مضبوط اورمتحد ہے اور نہ صرف متحد ہے بالکہ پہلے سے زیادہ مقبول جماعت بن چکی ہے۔

جس لاڈلے کیلئے یہ سب کچھ کیا گیا یہ محفل سجائی گئی اس نے دوسروں کا کندھا استعمال کرکے چار برس جیسے تیسے حکومت تو کرلی لیکن اپنی نااہلی سے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ملک کو سفارتی محاظ پر تنہا کردیا اور جب اس لاڈلے پر مشکل وقت آنا شروع ہوا تو اسکے اردگرد جمع لوگ منتشر ہونا شروع ہوگئے اور سب نے دیکھا کہ تحریک انصاف کے ممبران نے سرعام میڈیا پر آکر عمران خان کو چھوڑنے کا اعلان شروع کردیا۔

اس موقع پر اگر نواز شریف اور عمران خان کہ لیڈرشپ کا موازنہ کریں تو واضع فرق نظر آتا ہے کہ جسکو زورزبردستی سے نکالا گیا وہ آج بھی عوام اوراسکے چنے ہوئے نمائندوں کا قائد لیڈر اوررہبر ہے جبکہ جسکو زبردستی عوام پر مسلط کیا گیا وہ ابھی وزات عظمی کی کرسی پربراجمان ہے اور جماعتی ارکان نے سرعام آکر ساتھ چھوڑنے کا اعلان کرنا شروع کردیا ہے اسکونہ عوام قائد اور لیڈر ماننے کو تیار ہیں اور نہ ہی اس عوام کے نمائندے۔

غرض حقیقی لیڈرکا فرق جان کرجیو

اورنقالوں سے ہوشیار!۔

Raza Butt

Raza Butt is the editor of The Thursday Times.

More by this writer

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

Published by Thursday Media International thursday.media