ضیاءالحق را رئیس‌جمهور نمی‌دانم، با زور تفنگ هیچ‌کس رئیس‌جمهور شده نمی‌تواند، رئیس دیوان عالی قاضی فائز عیسی

من ضیاءالحق را رئیس‌جمهور نمی‌دانم، با زور تفنگ هیچ‌کس رئیس‌جمهور شده نمی‌تواند، در این محکمه دوباره ضیاء را رئیس‌جمهور نگویید. این سخنان رئیس دیوان عالی قاضی فائز عیسی در جریان رسیدگی دوباره به قضیه تحصن فیض‌آباد، خطاب به وکیل اعجاز‌الحق است.

در حال ترجمه… 1 / 3 خواندن متن اصلی

A combined file photo shows former Pakistani president Muhammad Zia-ul-Haq (L) and incumbent Supreme Court of Pakistan Chief Justice Qazi Faez Isa (R). — FILE/THE THURSDAY TIMES
A combined file photo shows former Pakistani president Muhammad Zia-ul-Haq (L) and incumbent Supreme Court of Pakistan Chief Justice Qazi Faez Isa (R). — FILE/THE THURSDAY TIMES
یہ تحریر سنیںضیاءالحق را رئیس‌جمهور نمی‌دانم، با زور تفنگ هیچ‌کس رئیس‌جمهور شده نمی‌تواند، رئیس دیوان عالی قاضی فائز عیسی2 منٹ · آلے کی آواز0:00 / 2:14

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا نظرِ ثانی کیس کی سماعت کے دوران مسلم لیگ ضیا کے صدر اعجاز الحق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ضیا الحق کو صدرِ پاکستان نہیں مانتا۔

فیض آباد دھرنا نظرِ ثانی کیس کے دوران جب اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اعجاز الحق کے وکیل نے بھی نظرِ ثانی واپس لینے کیلئے بیانِ حلفی کے ساتھ جواب جمع کرانے کا کہا ہے تو اعجاز الحق کے وکیل نے اٹارنی جنرل کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ میں نے نظرِ ثانی واپس لینے کا نہیں کہا۔

اعجاز الحق کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اعجاز الحق نے صرف اتنا کہا ہے کہ ان کا نام فیصلے سے حذف کیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ اعجاز الحق کا نام صرف انٹیلی جینس ایجنسیز کی رپورٹ کو قوٹ کرتے ہوئے لکھا گیا ورنہ فیصلے میں اعجاز الحق کا نام شامل نہیں ہے۔

اسی گفتگو کے دوران جب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اعجاز الحق ایک آرمی چیف ضیا الحق کے بیٹے ہیں تو اعجاز الحق کے وکیل نے جواب دیا کہ ان کے والد صدرِ پاکستان بھی تھے، اعجاز الحق کے وکیل کی اس بات پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ”میں ضیا کو صدرِ پاکستان نہیں مانتا، بندوق کے زور پر کوئی صدر نہیں بن سکتا، اِس عدالت میں دوبارہ ضیا کو صدر مت کہیے گا“۔

سابق فوجی آمر ضیا الحق کے بیٹے اعجاز الحق کے وکیل نے کہا کہ آئین میں درج ہے کہ ضیا الحق صدر تھے، اِس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ضیا الحق نے آئین میں لکھوایا تھا کہ میں پانچ سال کیلئے صدر ہوں۔

تھرسڈے ٹائمز کورٹ رپورٹر

تھرسڈے ٹائمز کے کورٹ رپورٹر کی جانب سے عدالتوں اور قانون کی خبریں۔

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔

ناشر Thursday Media International thursday.media