سعودی عرب پاکستان کے 9 ارب ڈالرز ریکوڈک منصوبے میں حصص خریدنے کیلئے تیار، امریکی جریدہ فنانشل ٹائمز

سعودی عرب کے انویسٹمنٹ مائننگ فنڈ نے پاکستان کے 9 ارب ڈالرز کے ریکوڈک منصوبے میں 10 سے 20 فیصد حصص خریدنے کی تیاری کر لی ہے۔ ریکوڈک منصوبہ تکمیل پر سالانہ 4 لاکھ ٹن تانبا اور 5 لاکھ اونس سونا فراہم کرے گا جو پاکستان کی معیشت کیلئے بہت بڑا سہارا ہو گا۔

Join the conversation

Translating from the Urdu… 0 of 3 Read the original

Saudi Arabia’s investment in Reko Diq aims to transform Pakistan’s economy and secure critical minerals. — ORIGINAL/THE THURSDAY TIMES
Saudi Arabia’s investment in Reko Diq aims to transform Pakistan’s economy and secure critical minerals. — ORIGINAL/THE THURSDAY TIMES
Listen to this articleسعودی عرب پاکستان کے 9 ارب ڈالرز ریکوڈک منصوبے میں حصص خریدنے کیلئے تیار، امریکی جریدہ فنانشل ٹائمز3 min · device voice0:00 / 3:15

اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — سعودی عرب کے ’’انویسٹمنٹ مائننگ فنڈ‘‘ نے پاکستان کے ریکوڈک منصوبے میں حصص خریدنے کی تیاری کر لی ہے جو مکمل ہونے کے بعد دنیا کی سب سے بڑی تانبا کانوں میں شامل ہو گا۔ یہ اقدام اس شعبہ میں وسعت کیلئے سعودی عرب کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

سعودی ’’منارا منرلز‘‘ پاکستان میں 9 ارب ڈالرز کے اس منصوبے میں 10 سے 20 فیصد حصص خریدے اور مستقبل میں پیداوار کیلئے آف ٹیک معاہدے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس کو کینیڈا میں قائم مائننگ کمپنی ’’بیریک گولڈ‘‘ ڈویلپ کر رہی ہے، تانبا شفاف توانائی کے منتقلی کیلئے بہت اہم ہے۔

یہ انویسٹمنٹ مائننگ فنڈ پاکستان کی حکومت، جو ریکوڈک کان کی 25 فیصد مالک ہے، سے ممکنہ طور پر 50 کروڑ سے ایک ارب ڈالرز کے درمیان حصص خریدے گا۔ بیریک گولڈ کے چیف ایگزیکٹیو مارک برسٹو نے گزشتہ ہفتے ریاض میں ایک مائننگ سمٹ کے دوران انٹرویو میں کہا کہ ’’یہ ایک بڑا منصوبہ ہے جو پاکستان کی معیشت کو بدل دے گا، یہ واقعی بہت بڑا ہے‘‘۔

سعودی عرب کی یہ سرمایہ کاری اس پورے منصوبہ کیلئے مفید ہوگی کیونکہ اس سے ایک طاقتور علاقائی شراکت دار شامل ہو گا۔ یہ معاہدہ آخری مراحل میں ہے۔ گزشتہ ہفتے پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ریاض گیا جہاں پاکستان کے وزیرِ پیٹرولیم مصدق ملک نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ آئندہ 6 مہینوں میں معاہدے کی توقع رکھتے ہیں۔

پاکستان کیلئے اقتصادی مواقع

ریکوڈک منصوبہ تکمیل پر سالانہ 4 لاکھ ٹن تانبا اور 5 لاکھ اونس سونا فراہم کرے گا جو پاکستان کی معیشت کیلئے بہت بڑا سہارا ہو گا۔ یہ منصوبہ بلوچستان کے مغربی علاقے میں افغان اور ایرانی سرحد کے قریب واقع ہے اور یہ خطہ میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گا۔

سعودی عرب کی حکمتِ عملی

سعودی عرب اس معاہدے کو اپنی صنعتی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کان کے ذریعہ حاصل ہونے والے وسائل نہ صرف سعودی معیشت کو فائدہ پہنچائیں گے بلکہ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین تعلقات کو بھی مزید مضبوط کریں گے۔

منصوبے کے چیلنجز اور ترقی

ریکوڈک منصوبہ اپنے مقام کی وجہ سے سیکورٹی اور لاجسٹک مسائل کا سامنا کر سکتا ہے تاہم ’’بیریک گولڈ‘‘ اور اس کے شراکت دار پہلے ہی ایئر سٹرپ اور مزدوروں کیلئے رہائش جیسے بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر شروع کر چکے ہیں۔ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے عالمی مالیاتی اداروں کی حمایت سے یہ منصوبہ حقیقت کی شکل ڈھال رہا ہے۔

تانبا کی بڑھتی ہوئی اہمیت

شفاف توانائی کی ٹیکنالوجیز کیلئے تانبے کی ضرورت نے ریکوڈک کو ایک اہم منصوبہ بنا دیا ہے جو نہ صرف سعودی عرب کی سٹریٹجک ضروریات کو پورا کرے گا بلکہ پاکستان کی برآمدی آمدنی میں بھی اضافہ کرے گا۔

سعودی وزیرِ صنعت و معدنیات ’’الخریف‘‘ نے تصدیق کی ہے کہ ’’منارا منرلز‘‘ ریکوڈک معاہدے پر غور کر رہا ہے جو سعودی عرب کی معدنیات کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔

TT Monitoring Desk

Reports from The Thursday Times' in-house monitoring desk.

More from this desk

The Thursday Times, every morning

The day’s stories that matter, the argument, and what readers read most, in one email before work.

Free. One click to stop, any time.

The conversation

Comments are open on this story. An editor reads every one before it appears.

No one has said anything yet. Be the first.

Published by Thursday Media International thursday.media