واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے ممکنہ دورے کی تیاری کے لیے ابھی "بہت جلدی" ہے، جس سے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر جلد دستخط کی توقعات کچھ کم ہو گئی ہیں، حالانکہ مذاکرات کار ایک ایسے فریم ورک کے متبادل مسودوں پر کام کر رہے ہیں جو دو ماہ سے زائد جاری جنگ کو ختم کر سکتا ہے۔
نیویارک پوسٹ کی رپورٹر کیٹلن ڈورن بوس سے بدھ کو گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ وہ "اسلام آباد کے لیے اپنا سامان باندھنا" شروع کر دیں، جو ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی تھی کہ واشنگٹن اور تہران معاہدے کے قریب ہیں۔
ڈورن بوس کے مطابق ٹرمپ نے کہا: "یہ بہت دور کی بات ہے۔ نہیں، یہ بہت زیادہ ہے۔" ڈورن بوس نے بتایا کہ صدر اس سے پہلے اشارہ دے چکے تھے کہ اگر معاہدہ طے پا گیا تو وہ باضابطہ دستخط کے لیے پاکستان جانے پر غور کریں گے۔
ان بیانات سے اس سفارتی عمل میں احتیاط کا عنصر آ گیا ہے جس نے حالیہ دنوں میں رفتار پکڑی تھی۔ رائٹرز کے مطابق امریکہ اور ایران ایک صفحے کی ایسی یادداشت کے قریب پہنچ رہے ہیں جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور ایران کے جوہری پروگرام پر وسیع تر مذاکراتی عمل کا آغاز ہے۔ ثالثی میں شامل ایک پاکستانی ذریعے نے تصدیق کی کہ دونوں فریق اس دستاویز کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں، تاہم تفصیلات پر بحث جاری ہے۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق مذاکرات کاروں کے درمیان ممکنہ ایک صفحے کی دستاویز کے کئی مسودے گردش کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریم ورک وسیع اصولوں سے آگے بڑھ چکا ہے لیکن ابھی حتمی متن تک نہیں پہنچا۔ ڈورن بوس نے ماحول کو محتاط خوش امیدی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کار "پرامید" ہو سکتے ہیں لیکن انہیں "حقیقت پسند رہنا" چاہیے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت کا مقصد جنگی کارروائیاں روکنا، آبنائے ہرمز کے گرد پابندیوں میں نرمی لانا، اور پابندیوں، منجمد ایرانی اثاثوں اور جوہری حدود پر مزید تفصیلی مذاکرات کا دور شروع کرنا ہوگا۔ بتایا گیا ہے کہ مسودے میں مزید بات چیت کے لیے ایک عارضی مہلت شامل ہے، جبکہ عمل ناکام ہونے کی صورت میں واشنگٹن کو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
مذاکرات میں پاکستان کا کردار تیزی سے مرکزی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ دستخط کی تقریب کے لیے پاکستان جانے پر آمادہ ہوں گے، اور اس کی وجہ پاکستان کے دفاعی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ان کوششوں کا احترام ہے جو انہوں نے واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز تک لانے میں کی ہیں۔
تاہم صدر کے تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی عمل آگے بڑھنے کے باوجود وائٹ ہاؤس ابھی اس عمل کو کسی طے شدہ پیش رفت کے طور پر پیش کرنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ مذاکرات ایک وسیع تر علاقائی بحران کے پس منظر میں ہو رہے ہیں، جس میں آبنائے ہرمز کی بندش اور اسے دوبارہ کھولنے سے متعلق بحث بھی شامل ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹرمپ نے حال ہی میں اس آبی گزرگاہ میں پھنسے ہوئے جہازوں کو باہر نکالنے کی امریکی کوشش عارضی طور پر روک دی، جبکہ واشنگٹن ایران کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہا تھا۔
علاقائی حکام نے اس وقفے کو اس اشارے کے طور پر دیکھا کہ انتظامیہ سفارت کاری کو کام کرنے کا موقع دے رہی ہے۔ پیش رفت کے آثار پر منڈیوں نے بھی ردعمل ظاہر کیا، اور اس امید پر تیل کی قیمتوں میں کمی آئی کہ معاہدے سے عالمی توانائی کی ترسیل پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
اس کے باوجود مذاکرات نازک ہیں۔ ایرانی حکام نے زور دیا ہے کہ کوئی بھی تجویز "منصفانہ" ہونی چاہیے، جبکہ امریکی حکام مذاکرات کو بدستور اس انتخاب کے طور پر پیش کر رہے ہیں کہ یا تو قابلِ تصدیق تصفیہ ہو گا یا پھر نئے سرے سے فوجی دباؤ۔
ٹرمپ اپنی طرف سے دونوں راستے کھلے رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے مذاکرات میں "غیر معمولی پیش رفت" کا برملا ذکر کیا ہے، اور ساتھ ہی یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ اگر ایران واشنگٹن کے لیے قابلِ قبول شرائط تسلیم نہیں کرتا تو بمباری زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
صدر نے بدھ کی صبح دی پوسٹ کے ساتھ اپنی فون کال اچانک ختم کر دی اور کہا کہ ان کی "جرنیلوں" کے ساتھ ملاقات طے ہے۔
اسی غیر یقینی صورتحال نے خود اسلام آباد کی فضا کو بھی متعین کیا ہے۔ تھرسڈے ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کیٹلن ڈورنبوس نے شہر کو عالمی واقعات سے شدید طور پر باخبر قرار دیا، لیکن ساتھ ہی غیر متوقع طور پر پُرخلوص اور انسان دوست بھی بتایا، اور کہا کہ عام پاکستانیوں نے جنگ اور اسے ختم کرنے کی کوششوں میں گہری دلچسپی دکھائی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے احتیاط برتی کہ آگے جو کچھ ہو سکتا ہے اسے بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں۔



