ریاض (تھرسڈے ٹائمز) — رائٹرز نے دو علاقائی ذرائع کے حوالے سے، جنہیں معاملے کا براہِ راست علم ہے، بتایا ہے کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان جمعہ کو سعودی عرب میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان 7 اگست کو ایک روزہ ورکنگ دورے پر سعودی عرب پہنچنے والے ہیں، جہاں ان کی ملاقات سعودی ولی عہد اور وزیرِ اعظم محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے طے ہے۔ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر مذاکرات کے لیے پہلے ہی مملکت میں موجود ہیں۔
سعودی حکومت کے ایک قریبی ذریعے نے اے ایف پی کو الگ سے تصدیق کی کہ تینوں رہنما جمعہ کو سربراہی اجلاس کریں گے۔ یہ سطور لکھے جانے تک اسلام آباد، ریاض اور انقرہ میں سے کسی نے بھی دستخط کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا۔
مجوزہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 17 ستمبر 2025 کو ریاض کے قصرِ الیمامہ میں طے پانے والے سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کی بنیاد پر تیار ہو گا، جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت دونوں کے خلاف جارحیت تصور کی جاتی ہے۔ پاکستانی حکام مسلسل کہتے آئے ہیں کہ مجوزہ سہ فریقی انتظام اس دو طرفہ معاہدے کا متبادل نہیں بلکہ اس سے الگ ہے، اور وہ باہم مربوط سکیورٹی وعدوں کے ایک تہہ دار ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
سہ فریقی معاہدے کے امکان پر کچھ عرصے سے بات چیت جاری ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے اس سال کے آغاز میں رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتظام "پہلے ہی زیر غور ہے"۔ ان کے مطابق معاہدے کا مسودہ تینوں حکومتوں کے پاس موجود ہے اور تقریباً دس ماہ سے اس پر غور ہو رہا ہے، جبکہ اسے حتمی شکل دینے کے لیے تینوں فریقوں کا اتفاقِ رائے ضروری ہوگا۔ ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان اس سے پہلے ان مذاکرات کو کسی محدود اتحاد کی تشکیل کے بجائے وسیع تر علاقائی تعاون کے تناظر میں بیان کر چکے ہیں۔
اس کا وقت اہم ہے۔ یہ سربراہی اجلاس ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب ایران اور امریکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر تصادم کی کیفیت میں ہیں، اور یہ صورتِ حال تہران کے گزشتہ ماہ کے اس اعلان کے بعد پیدا ہوئی کہ اس نے پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں۔ تجزیہ کاروں نے سہ فریقی مذاکرات کو بیرونی سلامتی ضمانتوں کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال کا ردعمل قرار دیا ہے، جس میں سعودی عرب اپنی سلامتی شراکت داریوں میں تنوع لانا چاہتا ہے، ترکی مشرق وسطیٰ میں اپنا کردار بڑھانا چاہتا ہے، اور پاکستان خلیج سے آگے بڑھ کر خطے میں اپنی موجودگی وسیع کرنا چاہتا ہے۔
پاکستان نے گزشتہ ایک سال خاموشی سے مسلم دنیا میں دفاعی شراکت داریاں قائم کرنے میں گزارا ہے۔ پہلے سعودی معاہدہ ہوا، پھر کویت کے ساتھ، جس نے گزشتہ ماہ پاکستان کے ساتھ اپنے 2023 کے دفاعی تعاون کے معاہدے کی باقاعدہ توثیق فرمان کے ذریعے کی، اور اطلاعات کے مطابق اسلام آباد اس کے بعد دیگر خلیجی ریاستوں سے بھی ایسے ہی انتظامات پر بات چیت کر رہا ہے۔ ہر معاملے میں سلامتی کے انتظامات کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کی بات بھی جڑی رہی ہے، اور پاکستانی حکام نے اس انداز کو چھپانے کی کم ہی کوشش کی ہے۔



