واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس ہفتے بھارت پہنچ رہے ہیں، مگر ان کے شیڈول میں نئی دہلی شامل نہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی سے کسی ملاقات کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔ دی وائر کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی امریکی وزیر خارجہ بھارت کے دورے پر آئے اور دارالحکومت میں اس کی کوئی ملاقات طے نہ ہو۔
امریکی محکمہ خارجہ کے 17 سے 22 اکتوبر کے پروگرام میں بھارت کے شہر ممبئی اور جام نگر شامل ہیں، جس کے بعد وہ ازبکستان کے شہر سمرقند جائیں گے۔ نئی دہلی اس پروگرام میں شامل نہیں۔ جام نگر میں امبانی خاندان کے بڑے کاروباری مفادات ہیں، اور روبیو وہاں “اعلیٰ حکومتی عہدیداروں” سے ملاقات کریں گے۔ محکمہ خارجہ کے اعلان میں مودی کا ذکر نہیں ہے۔
پانچ ماہ پہلے صورت حال مختلف تھی۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے روبیو کے پہلے دورۂ بھارت میں، جو مئی میں ہوا، وہ کولکتہ سے نئی دہلی گئے، جہاں انہوں نے مودی سے ملاقات کی اور انہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت پہنچائی۔
بھارتی وزارت خارجہ نے اس بارے میں بہت کم کہا ہے۔ ترجمان رندھیر جیسوال نے 14 اکتوبر کو کہا کہ “کئی دو طرفہ امور پر بات چیت ہوگی۔”
یہ دورہ امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی کے وقت ہو رہا ہے۔ واشنگٹن نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کر رکھے ہیں، اور بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق تجارتی معاہدے میں تاخیر ہو رہی ہے جبکہ امیگریشن پالیسی اب بھی باعث تشویش ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں بھی ہو رہا ہے جب بھارتی دارالحکومت ووٹر فہرستوں میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کی لپیٹ میں ہے، جس پر اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے تنقید کی ہے۔
کسی عہدیدار نے یہ نہیں بتایا کہ نئی دہلی کو شیڈول سے کیوں باہر رکھا گیا۔ یہ معلوم نہیں کہ مودی سے ملاقات شامل کی جائے گی یا روبیو دارالحکومت میں دیگر اعلیٰ بھارتی حکام سے ملیں گے یا نہیں۔



