اٹلانٹا (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کو کہا کہ واشنگٹن نہیں چاہتا کہ پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے، اور اسلام آباد کی اس شکایت کی حمایت کی کہ طالبان نے افغانستان سے ہونے والے حملے روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے۔
روبیو نے اٹلانٹا میں جی 20 (G20) وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے کہا، ”ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے۔ پاکستان کو افغانستان کی سرزمین سے سرپرستی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں پر تشویش ہے، اور اس کا خیال ہے کہ طالبان نے ان حملوں کو روکنے کے لیے کافی کچھ نہیں کیا۔ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں، چاہے وہ کہیں سے بھی ہو اور کسی کو بھی نشانہ بنائے۔“
ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب چند دن پہلے پاکستان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بتایا کہ طالبان دہشت گردوں کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے دے رہے ہیں، اور تین برس میں دہشت گرد حملوں میں 4,700 پاکستانی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد سے پاک فوج سرحد پار سے فائرنگ کے جواب میں جنوبی وزیرستان اور پاراچنار کے قریب افغان طالبان کی مزید چوکیاں تباہ کر چکی ہے۔
روبیو نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ امریکہ کو جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنے ہوں گے، جو امریکہ ایران جنگ کو دوبارہ شروع ہونے سے روکنے کی کوششوں میں قطر کے ساتھ ایک اہم ثالث بن کر ابھرا ہے۔ اسی نیوز کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کا فیصلہ نہیں کیا، جبکہ تہران نے کہا ہے کہ اس کا واشنگٹن سے مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں۔ روبیو نے کہا، ”اگر ہم چاہیں تو فوجی مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ابھی فیصلہ نہیں کیا۔“



