واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — ایکسیوس نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی اگلے منگل کے وسط مدتی انتخابات میں بری کارکردگی دکھاتی ہے تو وہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا حکم دینے پر زیادہ آمادہ ہو سکتے ہیں، جبکہ قطری ثالثوں نے براہِ راست مذاکرات بحال کرنے کی کوشش میں تہران میں 12 گھنٹے سے زیادہ گزارے۔
ایک امریکی عہدیدار نے ایکسیوس کو بتایا، ”اگر انہوں نے سبکی یا بے اختیاری محسوس کی تو وہ کوئی جرات مندانہ قدم اٹھائیں گے“، اور مزید کہا کہ یہ پیغام ایرانی حکام تک پہنچایا جا رہا ہے، جنہیں بتایا جا رہا ہے کہ معاہدے کا ان کے پاس بہترین موقع یہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اس خیال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج ایران سے متعلق ٹرمپ کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق قطری وفد جمعہ کو تہران میں مذاکرات کے دوران وائٹ ہاؤس سے مسلسل رابطے میں رہا، اور ایک سفارتی ذریعے نے ”مثبت پیش رفت“ بیان کی۔ بات چیت ہفتے کو دوحہ میں جاری رہنی تھی، اور قطر ایران پر زور دے رہا ہے کہ محدود پابندیوں میں نرمی کے بدلے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنی بمباری کا نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات تک رسائی دے۔
مذاکرات متضاد مطالبات پر اٹکے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن مذاکرات میں کسی بھی واپسی سے پہلے جوہری رعایتیں چاہتا ہے، جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ امریکہ پہلے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے، منجمد فنڈز جاری کرے اور تیل کی فروخت کی اجازت دے۔ رپورٹ میں ٹرمپ کے حلقے میں تقسیم کا ذکر کیا گیا، جس میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کسی معاہدے کے بارے میں شکوک رکھتے ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس اور ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات کی بحالی کے حامی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ پہلے ہی ٹرمپ کو دوبارہ حملوں کے آپشنز پر بریفنگ دے چکے ہیں، جبکہ ایران نے اس ہفتے آبنائے ہرمز میں ٹینکروں میں دھماکوں کا دعویٰ کیا۔ پاکستان، جو ثالثی بھی کر رہا ہے، سفارت کاری کے بارے میں ”محتاط طور پر پرامید“ ہے۔



