واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — ایک امریکی عہدیدار اور وکالتی گروپوں نے جمعہ کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ پیر سے ہی افغان تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنا شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اور انہیں پاکستان کے راستے بھیجا جائے گا کیونکہ واشنگٹن کے طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
دی نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ امریکہ سے افغانوں کی سب سے بڑی یکبارگی ملک بدریوں میں سے ایک میں 150 سے زیادہ افغانوں کو نکالے جانے کی توقع ہے۔ اخبار کے مطابق پہلی پرواز سے قبل درجنوں افراد کو لوزیانا میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ ملک بدری پاکستان کے راستے ہوگی، کیونکہ امریکہ براہِ راست افغانستان واپسی کا انتظام نہیں کر سکتا۔
محکمۂ ہوم لینڈ سکیورٹی نے آپریشنل سکیورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ ملک بدری کی کارروائیوں کی تصدیق نہیں کرے گا، اور پروازوں کی منزل کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ ان منصوبوں سے قطر کے کیمپ السیلیہ میں مقیم افغان پناہ گزین بھی متاثر ہو سکتے ہیں، جہاں واشنگٹن اس مرکز کو خالی کرنے کی ڈیڈ لائن بار بار آگے بڑھاتا رہا ہے۔
ملک بدری کا سامنا کرنے والوں میں سے بہت سے 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد فرار ہوئے تھے۔ وکالتی گروپ افغان ایویک کے سربراہ شان وین ڈائیور نے کہا کہ ان میں سے کچھ ”ان افراد کے بھائی اور بیٹے ہیں جنہوں نے امریکی افواج کے ساتھ خدمات انجام دیں، ایسے خاندان جنہیں نشانہ بنانے کی طالبان کے پاس پہلے ہی ہر وجہ موجود ہے“۔ گروپ نے انتظامیہ پر الزام لگایا کہ اس نے پروازوں کا وقت ایسے رکھا جب توجہ اگلے ہفتے کے وسط مدتی انتخابات پر ہے، ”اس امید پر کہ کوئی نہیں دیکھ رہا“۔
وین ڈائیور نے کانگریس پر زور دیا کہ امریکہ میں موجود افغانوں کو ملک بدری سے بچانے کے لیے عارضی تحفظ کی حیثیت دی جائے۔



