واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اپنے آخری انتخابی جلسوں میں مشی گن سے ڈیموکریٹ سینیٹ امیدوار عبدالسید کو ایک بار پھر "جہادی" قرار دیا، اور مذاق کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ جیت گئے تو سینیٹ کو ان کے لیے "خصوصی میٹل ڈیٹیکٹر" کی ضرورت پڑے گی۔
منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے دو روز قبل آئیووا اور کینساس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ بے بنیاد دعویٰ بھی دہرایا کہ عبدالسید، جو مشی گن میں پیدا ہونے والے مصری نژاد ڈاکٹر ہیں، اخوان المسلمون سے تعلق رکھتے ہیں۔ میٹل ڈیٹیکٹر والے جملے پر حاضرین ہنس پڑے۔
یہ عبدالسید پر حملوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے، جو ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے ساتھ ان کے سخت مقابلے کے آخری مرحلے میں جاری ہے۔ مشی گن میں مسلم برادری کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس مقابلے میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے اب تک کی بدترین دشمنی دیکھنے میں آئی ہے۔ ٹرمپ نے دونوں جلسوں میں مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی مسلم ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کو بھی نشانہ بنایا۔
آئیووا میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ "پسند کریں گے" کہ رکن کانگریس ہیلی سٹیونز جماعت تبدیل کر لیں۔ سٹیونز، جو ڈیموکریٹ پرائمری میں عبدالسید سے ہار گئی تھیں، نے راجرز کی حمایت کی ہے۔ عبدالسید نے اپنے مدمقابل کے لیے ان کی حمایت کو اہمیت نہیں دی۔
ٹرمپ نے حامیوں پر زور دیا کہ وہ ووٹ ڈالیں اور "فرض کریں کہ میں بیلٹ پر ہوں"۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ریپبلکنز کے لیے مشکل رات متوقع ہے، جو ان کے عہدے کے آخری دو برسوں کے لیے کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ جلسے گزشتہ ہفتے منسوخ کر دیے گئے تھے اور پھر اچانک دوبارہ طے کیے گئے، اور انتخاب سے پہلے یہی ان کے آخری مجوزہ دورے ہیں۔ ان کی تقریروں میں ایران کے ساتھ جنگ، مہنگائی اور امیگریشن کا ذکر بھی آیا۔



