واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی شہری منگل کو وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالیں گے، جن سے طے ہوگا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے آخری دو برسوں میں کانگریس پر کس کا کنٹرول ہوگا۔ ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستیں، سینیٹ کی 35 نشستیں اور 36 ریاستوں کے گورنروں کا انتخاب داؤ پر ہے۔
سینیٹ میں ریپبلکنز کو 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی برتری حاصل ہے، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں ان کی اکثریت انتہائی معمولی ہے۔ روایتی طور پر برسرِ اقتدار جماعت وسط مدتی انتخابات کے سال میں نشستیں کھو دیتی ہے، اور اس بار وہ ایسے حالات میں ووٹروں کے سامنے جا رہی ہے جب مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے اور سروے کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ غیر مقبول ہے۔
سروے کی اوسط کے مطابق قومی سطح پر کانگریس کے انتخابی مقابلے میں ڈیموکریٹس تقریباً 8 پوائنٹ آگے ہیں، اور بیشتر تجزیہ کار توقع کر رہے ہیں کہ وہ ایوانِ نمائندگان دوبارہ جیت لیں گے۔ سینیٹ کا مقابلہ زیادہ قریبی ہے: اندازوں کے ماڈلز ڈیموکریٹس کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتے ہیں، جبکہ ایک وسیع پیمانے پر دیکھی جانے والی درجہ بندی اب بھی اسے کانٹے کا مقابلہ قرار دیتی ہے۔ ٹرمپ کی پیش گوئی ہے کہ ریپبلکنز دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھیں گے، اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس نے کنٹرول سنبھال لیا تو "یہ ملک جہنم میں چلا جائے گا"۔
ڈیموکریٹس کو کیا درکار ہے
سینیٹ جیتنے کے لیے ڈیموکریٹس کو خالص طور پر چار نشستوں کا اضافہ درکار ہے، کیونکہ 50-50 کی برابری کی صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس ریپبلکنز کے حق میں ووٹ ڈال کر فیصلہ کریں گے۔ ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کے لیے 218 نشستیں چاہئیں۔ کسی بھی ایوان کا کنٹرول ڈیموکریٹس کو یہ اختیار دے گا کہ وہ ٹرمپ کے ایجنڈے کو محدود کریں اور ان کی انتظامیہ کی تحقیقات کریں، جبکہ سینیٹ ملنے کی صورت میں انہیں ٹرمپ کے نامزد کردہ ججوں کو مسترد کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
آزاد انتخابی تجزیہ کار سینیٹ کے سات مقابلوں کو کانٹے کا مقابلہ قرار دیتے ہیں:
- مشی گن: عبدالسید، جو سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان ہوں گے، ریپبلکن مائیک راجرز کے مدمقابل ہیں۔ یہ واحد کانٹے کا مقابلہ ہے جو ایسی نشست پر ہو رہا ہے جو پہلے ہی ڈیموکریٹس کے پاس ہے۔
- ٹیکساس: ڈیموکریٹ جیمز تالاریکو کا مقابلہ ریپبلکن کین پیکسٹن سے ہے، جو سینیٹ کی تاریخ کا مہنگا ترین انتخابی مقابلہ ہے۔
- مین: ریپبلکن سوزن کولنز، جو چھٹی مدت کے لیے میدان میں ہیں، ڈیموکریٹ ٹروئے جیکسن کے مدمقابل ہیں۔
- اوہائیو: ریپبلکن جون ہسٹڈ کا مقابلہ ڈیموکریٹ شیرروڈ براؤن سے ہے، جو اپنی پرانی نشست واپس جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
- آئیووا: ریپبلکن ایشلے ہنسن کا مقابلہ ڈیموکریٹ جوش ٹیوریک سے ہے، جو پیرالمپک باسکٹ بال کے چیمپئن ہیں۔
- کینساس: ریپبلکن راجر مارشل کا مقابلہ ڈیموکریٹ ایڈم ہیملٹن سے ہے۔ اس ریاست نے آخری بار 1932 میں کسی ڈیموکریٹ سینیٹر کو منتخب کیا تھا۔
- الاسکا: ریپبلکن ڈین سلیوان کا مقابلہ ڈیموکریٹ میری پیلٹولا سے ہے، اور اس مقابلے میں بیلٹ پر ایک اور ڈین سلیوان کا نام بھی موجود ہے۔
نتائج کب آئیں گے، پاکستانی وقت کے مطابق
چھ ٹائم زونز میں پولنگ مرحلہ وار بند ہوگی، جو پاکستان میں بدھ کی صبح 4 بجے سے 11 بجے تک جاری رہے گی:
- صبح 4 بجے: انڈیانا اور کینٹکی کے کچھ حصوں میں پہلی پولنگ بند ہوگی۔
- صبح 5 بجے: جارجیا، جنوبی کیرولائنا، ورجینیا، ورمونٹ، اور فلوریڈا اور نیو ہیمپشائر کے بیشتر حصوں میں۔
- صبح 5:30 بجے: اوہائیو، شمالی کیرولائنا اور مغربی ورجینیا۔
- صبح 6 بجے: پنسلوانیا، نیو جرسی، مین، میساچوسیٹس، الینوائے، اور ٹیکساس، مشی گن اور کینساس کے بیشتر حصوں میں۔
- صبح 7 بجے: نیویارک، ایریزونا، کولوراڈو، آئیووا، منی سوٹا، وسکونسن اور نیبراسکا، علاوہ ازیں ٹیکساس اور مشی گن کے باقی حصوں میں۔
- صبح 8 بجے: مونٹانا، یوٹاہ، اور آئیڈاہو اور اوریگن کے بیشتر حصوں میں۔
- صبح 9 بجے: کیلیفورنیا اور ریاست واشنگٹن۔
- صبح 10 بجے: ہوائی اور الاسکا کے بیشتر حصوں میں۔
- صبح 11 بجے: آخری پولنگ، الاسکا میں بند ہوگی۔
ممکن ہے کہ اس وقت تک کوئی واضح فاتح سامنے نہ آئے۔ کیلیفورنیا میں ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹ ایوانِ نمائندگان کی حتمی گنتی میں تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں، الاسکا میں نتائج عموماً سست رفتاری سے آتے ہیں اور وہاں ترجیحی درجہ بندی کے مطابق ووٹنگ ہوتی ہے، جبکہ جارجیا میں سینیٹ کے مقابلے کا فیصلہ رن آف انتخاب سے ہوگا اگر کوئی امیدوار اکثریت حاصل نہ کر سکا۔
پہلے اشارے ایوانِ نمائندگان کی ان نشستوں سے ملیں گے جو کینٹکی کے 6ویں اور انڈیانا کے 5ویں ڈسٹرکٹ میں ہیں۔ دونوں پر ریپبلکنز کا قبضہ ہے اور مہم کے آغاز کے مقابلے میں اب یہاں مقابلہ زیادہ سخت ہو چکا ہے۔ اسی طرح فلوریڈا کے 22ویں اور 27ویں ڈسٹرکٹ سے بھی اشارے ملیں گے۔ وہاں کانٹے کے مقابلے ڈیموکریٹس کی کہیں بڑی کامیابی کی نشاندہی کریں گے۔
دنیا کی نظریں کیوں لگی ہیں
یہ ووٹنگ ایران بحران کے عین بیچ ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کہہ چکے ہیں کہ ریپبلکنز کی شکست کی صورت میں ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کا حکم دے سکتے ہیں، جبکہ حکام کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے انہیں وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد حملہ کرنے پر زور دیا، اور یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستانی اور قطری ثالث کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کا مقصد آبنائے ہرمز پر جاری تعطل کا خاتمہ ہے۔
ووٹر 145 ریاستی سطح کے بیلٹ اقدامات پر بھی فیصلہ کریں گے، جن میں کیلیفورنیا کے ارب پتیوں پر 5 فیصد کا ایک بار کا دولت ٹیکس، مسوری، آئیڈاہو، ورجینیا اور نیواڈا میں اسقاطِ حمل کے حقوق، اور 11 ریاستوں میں ووٹر کی شناختی دستاویز یا غیر شہریوں کے ووٹ ڈالنے سے متعلق قواعد شامل ہیں۔



