واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی محکمہ انصاف نے پیر کو کہا کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے ایک دن پہلے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ کیلیفورنیا کے ساتھ ریاست کی ووٹر فہرستوں پر جاری تنازع میں عدالت مداخلت کرے۔ اس سے پہلے دو نچلی عدالتیں بیلٹ الگ رکھنے کا حکم دینے سے انکار کر چکی ہیں۔
محکمے کا کہنا ہے کہ اس نے کیلیفورنیا کی ووٹر فہرست میں 20 ہزار “ممکنہ” غیر شہریوں کی نشاندہی کی ہے اور چاہتا ہے کہ ان کے بیلٹ اس وقت تک روک لیے جائیں جب تک ان کی شہریت کی تصدیق نہیں ہو جاتی۔ یہ واضح نہیں کہ سپریم کورٹ یہ مقدمہ سنے گی یا نہیں، اور یہ بھی واضح نہیں کہ وہ انتخابی دن سے پہلے کوئی کارروائی کرے گی یا نہیں۔
زیر بحث بیلٹ کی اصل تعداد غالباً اس سے کہیں کم ہو گی۔ کاؤنٹی کے انتخابی حکام نے دیکھا ہے کہ فہرست میں شامل بہت سے لوگوں کی رجسٹریشن فعال نہیں تھی اور انہیں بیلٹ ڈاک سے بھیجے ہی نہیں گئے تھے۔
وفاقی ضلعی عدالت کے ایک جج نے یہ درخواست مسترد کر دی، اور جمعہ کو نویں سرکٹ کی عدالتِ اپیل کے منقسم بنچ نے بھی یہی فیصلہ دیا۔ کیلیفورنیا اور لاس اینجلس کاؤنٹی نے دلیل دی کہ وفاقی فہرست قابل اعتماد نہیں اور ووٹنگ کے دوران بیلٹ الگ کرنے کا نیا نظام قائم نہیں کیا جا سکتا۔
ٹرمپ کے مقرر کردہ جج مارک بینیٹ اور بائیڈن کے مقرر کردہ جج گیبریل سانچیز نے لکھا: “اس کا ٹھوس خطرہ موجود ہے کہ امریکہ کو اس کا مطلوبہ ریلیف دینے کے نتیجے میں ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم ہونا پڑے گا اور کاؤنٹی کا پورا انتخاب خطرے میں پڑ سکتا ہے۔” ٹرمپ ہی کے مقرر کردہ جج پیٹرک بومیتے نے اختلاف کیا۔
دونوں ججوں نے اس دیرینہ اصول کا حوالہ دیا کہ ووٹنگ سے عین پہلے انتخابی طریقہ کار تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے، اور اس کا بھی کہ آئین نے ریاستوں کو انتخابات کرانے کا اختیار دیا ہے۔ انہوں نے ایک وفاقی قانون کی طرف بھی اشارہ کیا جو ریاستوں کو وفاقی انتخاب سے 90 دن کے اندر نااہل ووٹروں کو منظم طریقے سے فہرست سے نکالنے سے روکتا ہے۔
تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں محکمے کے عہدیداروں نے مقامی انتخابی حکام کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے تعاون نہ کیا تو ان کے خلاف فوجداری مقدمہ چلایا جا سکتا ہے، اور گزشتہ ہفتے محکمے نے لاس اینجلس کاؤنٹی کے انتخابی دفتر کے ملازمین کو گرینڈ جیوری کے سمن بھیجے۔
کیلیفورنیا میں پولنگ پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح 9 بجے بند ہو گی۔ اس کے ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے بیلٹ ایوانِ نمائندگان کی حتمی گنتی میں تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ کانگریس کا کنٹرول داؤ پر لگا ہوا ہے۔



