واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی سپریم کورٹ نے وسط مدتی انتخابات سے عین پہلے ٹرمپ انتظامیہ کی آخری لمحوں کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں کیلیفورنیا میں ووٹوں کی گنتی میں مداخلت کی استدعا کی گئی تھی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہزاروں بیلٹ الگ کرانے کی انتظامیہ کی کوشش ختم ہو گئی۔
عدالت نے پیر کو ایک سطری حکم نامے میں اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔ حکم نامے میں کہا گیا: “جسٹس کیگن کو پیش کی گئی اور ان کی جانب سے عدالت کو بھیجی گئی، اپیل کے فیصلے تک حکمِ امتناعی کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔” دو نچلی عدالتوں کے فیصلے، جنہوں نے پہلے ہی یہ درخواست مسترد کر دی تھی، اب برقرار ہیں۔
محکمہ انصاف 20,000 رجسٹرڈ ووٹروں کے بیلٹ الگ کرانا چاہتا تھا، جن کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ وہ غالباً امریکی شہری نہیں ہیں۔ 22 صفحات پر مشتمل اپنی دستاویز میں اس نے مؤقف اختیار کیا کہ غیر شہریوں کے ڈالے گئے ووٹ “جائز ووٹوں کی وقعت گھٹا سکتے ہیں یا ان کا اثر کمزور کر سکتے ہیں”۔
کیلیفورنیا کے انتخابی حکام نے کہا کہ حکومت کی فہرست غلطیوں سے بھری ہوئی ہے، اہل ووٹر اپنے ووٹ سے محروم ہو سکتے ہیں، اور ووٹنگ جاری ہونے کے دوران بیلٹ کو الگ کرنا ممکن ہی نہیں۔ وفاقی جج ڈیوڈ کارٹر نے، جنہوں نے گزشتہ ہفتے یہ درخواست مسترد کی تھی، لکھا: “اگر انتظامیہ غیر ثابت شدہ الزامات کی بنیاد پر ووٹوں کو نظرانداز کر سکے اور جاری انتخاب کو خطرے میں ڈال سکے تو ہماری جمہوریت خطرے میں ہے۔”
یہ تنازع اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مسلح اہلکاروں نے کیلیفورنیا بھر میں کاؤنٹی حکام کو خطوط پہنچائے، جن میں دھمکی دی گئی تھی کہ اگر انہوں نے بیلٹ الگ نہ کیے تو ان کے خلاف فوجداری الزامات عائد کیے جائیں گے۔
کیلیفورنیا امریکہ کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے، جس کی ووٹر فہرست میں تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ افراد درج ہیں۔ سیکریٹری آف اسٹیٹ کے دفتر کے مطابق اتوار کی رات تک ڈاک کے ذریعے 60 لاکھ سے زیادہ بیلٹ موصول ہو چکے تھے۔



