واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — ناسا (NASA) اور امریکی نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیئرک ایڈمنسٹریشن، این او اے اے (NOAA)، نے بتایا ہے کہ نگرانی کے 48 برسوں میں اس سال انٹارکٹکا کے اوپر اوزون کا سوراخ ساتواں بڑا سوراخ رہا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اوزون کی تہہ بدستور بحالی کی راہ پر ہے۔
7 ستمبر سے 13 اکتوبر تک، جو اوزون میں کمی کے موسم کا عروج ہوتا ہے، اس سوراخ کا اوسط رقبہ تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ مربع کلومیٹر رہا، جو پاکستان کے رقبے سے تقریباً 28 گنا ہے۔ 18 ستمبر کو یہ ایک دن کی سب سے بڑی وسعت یعنی 2 کروڑ 71 لاکھ مربع کلومیٹر تک پہنچ گیا۔ اب تک کا سب سے بڑا سوراخ ستمبر 2000 میں دیکھا گیا تھا۔
یہ سوراخ بڑا تھا لیکن بدترین برسوں جتنا گہرا نہیں تھا۔ این او اے اے کے قطب جنوبی پر نصب غباروں کے آلات نے 17 اکتوبر کو اوزون کی پیمائش کی معیاری اکائی، ڈوبسن یونٹ، کی کم از کم سطح 105 ریکارڈ کی، جبکہ اکتوبر 2006 میں ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح 92 تھی۔
ناسا کی اوزون تحقیقی ٹیم کی طویل عرصے سے قیادت کرنے والے سینئر سائنس دان پال نیومین نے کہا، "حالیہ برسوں میں سالانہ اوزون کا سوراخ موسم میں دیر سے بن رہا ہے، جو ہمیں بتاتا ہے کہ اوزون کی تہہ مندمل ہو رہی ہے۔" انہوں نے اس سال سوراخ کے بڑے حجم کی وجہ غیر معمولی طور پر طاقتور قطبی بھنور کو قرار دیا، یعنی ہواؤں کا وہ حلقہ جو ایسی سرد حالتیں پیدا کرتا ہے جن میں انسانی ساختہ کیمیائی مادوں سے خارج ہونے والی کلورین اور برومین اوزون کو تباہ کرتی ہیں۔
نیومین نے کہا کہ اگر ان کیمیائی مادوں کی موجودگی اتنی ہی ہوتی جتنی 2000 میں اپنے عروج پر تھی تو یہ سوراخ تقریباً 35 لاکھ مربع کلومیٹر مزید بڑا ہو سکتا تھا۔
ایک معاہدہ جو کارگر ثابت ہو رہا ہے
اوزون کی تہہ زندگی کو سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچاتی ہے۔ ناسا اور این او اے اے نے 1987 کے مونٹریال پروٹوکول کو اس کا سہرا دیا، جس کے تحت ممالک نے اوزون کو نقصان پہنچانے والے مادوں کی جگہ متبادل اپنانے پر اتفاق کیا تھا۔ این او اے اے کے سینئر سائنس دان اسٹیفن مونٹزکا نے بتایا کہ انٹارکٹکا کے اسٹریٹوسفیئر میں ان کیمیائی مادوں سے خارج ہونے والی کلورین 1980 کی دہائی کی سطح کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی کم ہو چکی ہے۔
یہ مرکبات کسی زمانے میں ریفریجریٹروں، ایئر کنڈیشنروں اور انسولیشن میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتے تھے اور کئی دہائیوں تک فضا میں موجود رہ سکتے ہیں۔ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ اوزون کی تہہ کا شگاف 2070 کی دہائی تک ٹھیک ہو جائے گا۔



