اسلام آباد (تھرسڈے ٹائمز) — پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے جمعرات کو کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا وہ نوٹیفکیشن جعلی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی گئی ہے، اور اس نے ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔
اپنے بیان میں اتھارٹی نے ان معلومات کو جھوٹا اور گمراہ کن قرار دیا۔ اس نے عوام سے کہا کہ وہ غیر تصدیق شدہ دعوے نہ آگے بڑھائیں اور نہ ان پر بھروسہ کریں، اور تازہ معلومات صرف اس کی ویب سائٹ اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے حاصل کریں۔
جعلی نوٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایپ پر پابندی قومی سلامتی، امن عامہ اور بچوں کے تحفظ کی وجہ سے لگائی جا رہی ہے، اور یہ کہ اس پر پاکستان کی ثقافت اور سماجی اقدار کے خلاف مواد پھیلایا جا رہا ہے۔
پاکستان ماضی میں ایک سے زائد بار اس ایپ کو بند کر چکا ہے، جس سے ایسے دعوے آسانی سے پھیل جاتے ہیں۔ 2020 اور 2021 کی بندشیں بعد میں ختم کر دی گئی تھیں۔ ٹک ٹاک کی اپنی رپورٹ کے مطابق اس نے اپریل سے جون 2026 کے دوران اپنی کمیونٹی گائیڈلائنز کی خلاف ورزی پر پاکستان میں 2 کروڑ 32 لاکھ سے زائد ویڈیوز ہٹائیں۔



