واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — مذاکرات سے براہِ راست واقف دو ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس گزشتہ دو ہفتوں سے ایران کے ساتھ نئی جنگ بندی اور جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے بالواسطہ بات چیت میں ذاتی طور پر مصروف ہیں، اور وہ تقریباً روزانہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی سے بات کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وینس اور پاکستانی و قطری ثالثوں نے آئندہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ورکنگ لیول کی ایک تکنیکی ملاقات پر بات کی ہے، تاہم یہ ملاقات ابھی نہیں ہوئی۔ وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر بھی اس عمل میں شامل ہیں۔ نائب صدر کے دفتر نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
جمعے کو جب صحافیوں نے ٹرمپ سے پوچھا کہ ایران کے لیے ان کا پیغام کیا ہے تو انہوں نے کہا: “ہم ان سے بات کر رہے ہیں۔” امریکی حکام اور علاقائی ذرائع کے مطابق ٹرمپ فی الحال سفارت کاری کو موقع دینے پر آمادہ ہیں، تاہم اگر وہ اپنا ارادہ بدلیں تو فوج نسبتاً کم وقت میں دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
خط: دو ہفتے پہلے وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے قریب ترین معتمدین میں سے ایک محسن رضائی کو خط لکھا تھا، جس میں براہِ راست مذاکرات کی بحالی کی تجویز دی گئی تھی۔ ایرانی حکام کے مطابق اس خط سے مثبت پیش رفت کی فضا بنی۔ ثالثی کی کوششوں میں شامل ذرائع کا کہنا ہے کہ پیش رفت ہوئی ہے، لیکن بہت آہستہ۔
جنگ فروری کے آخر میں شروع ہونے سے پہلے وینس ٹرمپ کے قریبی حلقے میں سب سے زیادہ شکوک رکھنے والی آواز تھے، اور بدھ کو انہوں نے کہا کہ جنگ ہی اس ہفتے کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کی بنیادی وجہ تھی۔ انہوں نے اپریل میں اسلام آباد مذاکرات میں امریکی ٹیم کی قیادت کی، جون میں امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر کام کیا، اور سوئٹزرلینڈ میں براہِ راست مذاکرات کے ایک دور کی قیادت کی جو ایران کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات پر مدعو کرنے کے وعدے پر ختم ہوا۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بحری جہازوں پر دوبارہ حملوں کے بعد یہ یادداشت ختم ہو گئی۔
جمعے کو ٹرمپ نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے بھی قطر کی ان کوششوں پر بات کی جو اختلافات کم کرنے کے لیے جاری ہیں۔ امیر کے دفتر کے مطابق انہوں نے “مکالمہ جاری رکھنے اور اختلافات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کرنے، خطے کو مزید کشیدگی سے بچانے، اور بحری آمدورفت کی آزادی اور توانائی کی فراہمی کی سلامتی یقینی بنانے” کی ضرورت پر زور دیا۔



