لندن (تھرسڈے ٹائمز) — برطانوی دفاعی جریدے کی ایرو (Key Aero) میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مئی میں پاکستان کے ساتھ ہونے والے بڑے فضائی تصادم کے دوران مبینہ طور پر مار گرائے گئے بھارتی فضائیہ کے چار رافیل لڑاکا طیاروں کے سیریل نمبر کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 7 مئی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان باون منٹ تک جاری رہنے والی فضائی جھڑپ کے دوران بھارتی فضائیہ کے چار رافیل طیارے تباہ ہوئے، جن کے سیریل نمبر BS-001، BS-021، BS-022 اور BS-027 تھے۔ کی ایرو کے مطابق یہ شناخت الیکٹرانک انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی اور بعد میں انسانی ذرائع اور کھلے ذرائع سے حاصل شدہ انٹیلی جنس کے جائزوں سے اس کی توثیق کی گئی۔
جریدے نے نشاندہی کی کہ بھارتی حکام نے بڑے پیمانے پر نقصانات کی عوامی سطح پر تردید تو کی ہے، تاہم زیرِ بحث طیاروں کی آپریشنل حیثیت کی تصدیق کرنے والی جھڑپ کے بعد کی کوئی واضح تصویری شہادت یا سرکاری دستاویز جاری نہیں کی۔
تجزیہ کار اس تصادم کو جنوبی ایشیا میں دیکھی جانے والی بصری حدِ نظر سے باہر کی سب سے اہم فضائی لڑائیوں میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔ یہ تصادم اپریل میں بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے حملے کے بعد بڑھنے والی کشیدگی کے نتیجے میں سامنے آیا۔ بھارت نے "آپریشن سندور" کے نام سے فضائی کارروائیاں شروع کیں، جبکہ پاکستان نے "بنیان مرصوص" کے نام سے جوابی کارروائی کی۔
کی ایرو کے مطابق پاکستانی فضائیہ نے بڑی حد تک مربوط کثیر شعبہ جاتی کارروائیوں پر انحصار کیا، جن میں فضائی پیشگی وارننگ، طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضا سے فضا میں داغے جانے والے میزائل، الیکٹرانک وارفیئر اور سائبر صلاحیتیں شامل تھیں۔ رپورٹ کے مطابق اس حکمتِ عملی سے جھڑپ کے دوران بھارت کی صورتحال سے آگاہی متاثر ہوئی۔
جریدے نے اس تصادم کے دوران مزید مبینہ نقصانات کا بھی ذکر کیا، جن میں مگ اور سخوئی طیارے اور بغیر پائلٹ کے فضائی نظام (ڈرون) شامل ہیں، اس کے علاوہ بھارتی افواج کو پہنچنے والے نقصان کی وسعت کے بارے میں وسیع تر دعوے بھی کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ 10 مئی کو پاکستان ایئر فورس کے JF-17C بلاک 3 نے اودھم پور میں نصب بھارتی S-400 فضائی دفاعی نظام کے پرزوں کو نشانہ بنایا اور اس کے اہم راڈار حصوں کو ناکارہ کر دیا۔ بھارتی حکام نے نظام کو پہنچنے والے نقصان کا عوامی سطح پر اعتراف نہیں کیا، تاہم وزیر اعظم نریندر مودی نے بعد میں اس مقام کا دورہ کیا۔
کی ایرو (Key Aero) نے پاکستانی دعووں کا بھی حوالہ دیا کہ تصادم کے دوران سائبر کارروائیاں روایتی فضائی سرگرمیوں کے ساتھ مربوط کی گئی تھیں، جس کے نتیجے میں بھارتی ڈیجیٹل نیٹ ورکس میں بڑے پیمانے پر خلل پڑا۔
31 مئی کو بلومبرگ ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے تسلیم کیا کہ تصادم کے دوران بھارتی طیارے مار گرائے گئے تھے، تاہم انہوں نے تعداد بتانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا: "اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیوں گرائے گئے۔"
رپورٹ میں مئی کی اس جھڑپ کو دونوں حریف ممالک کے درمیان ماضی کے فضائی تصادموں کے تناظر میں رکھا گیا اور 2019 کے آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ کو یاد کیا گیا، جس کے دوران پاکستانی حدود میں بھارتی فضائی حملوں کے بعد پاکستان نے ایک بھارتی MiG-21 مار گرایا تھا۔



