نیویارک (تھرسڈے ٹائمز) — عالمی بینک نے خاموشی سے عالمی ترقیاتی جغرافیے کی قدیم ترین انتظامی حد بندیوں میں سے ایک کو ازسرِ نو ترتیب دے دیا ہے، اور مالی سال 2026 سے پاکستان کو جنوبی ایشیا کے علاقائی گروپ سے نکال کر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے زمرے میں شامل کر دیا ہے۔
یہ تبدیلی کسی بڑے اعلان یا پریس کانفرنس کے ذریعے سامنے نہیں آئی، بلکہ ادارے کی اپنی ڈیٹا بینک میٹا ڈیٹا لغت میں نظر آئی، جہاں اب پاکستان اور افغانستان کو مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ اب تک پاکستان کو طویل عرصے سے جنوبی ایشیا کے تحت بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے ساتھ شمار کیا جاتا رہا تھا۔
ایک سطح پر یہ ردوبدل تکنیکی نوعیت کا ہے۔ کثیر الاقوامی ادارے قرضوں کے پورٹ فولیو، معاشی ماڈلز، اندرونی انتظامی ڈھانچوں اور علاقائی حکمتِ عملیوں کو ہم آہنگ کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً درجہ بندیوں پر نظرثانی کرتے رہتے ہیں۔ تاہم علاقائی عنوانات کبھی محض انتظامی نہیں ہوتے۔ ان سے طے ہوتا ہے کہ سرمایہ کار، سفارت کار اور ترقیاتی منصوبہ ساز ممالک کے بارے میں کس طرح بات کرتے ہیں، انہیں کس سے موازنے کے لیے پرکھتے ہیں اور کس طرح سمجھتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اس اقدام کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک اپنے بیرونی رخ کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔ کبھی تقریباً مکمل طور پر جنوبی ایشیائی رقابت کے زاویے سے دیکھا جانے والا پاکستان گزشتہ برسوں میں مغرب کی جانب، بالخصوص خلیج کے ساتھ، اپنے معاشی اور تزویراتی تعلقات کو گہرا کرتا رہا ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر پاکستان کے اہم ترین مالی اور سفارتی شراکت داروں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ریاض نے ڈپازٹس اور قرضوں کی مدت میں توسیع کے انتظامات کے ذریعے بارہا پاکستان کی مالی حالت کو سہارا دیا ہے۔ اماراتی سرمائے نے لاجسٹکس، ہوا بازی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں اپنی موجودگی بڑھائی ہے۔ لاکھوں پاکستانی کارکن آج بھی خلیجی لیبر منڈیوں کا اہم حصہ ہیں اور وہاں سے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر ملکی کھپت اور زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیتی ہیں۔
اسی کے ساتھ اسلام آباد کی سیاسی زبان بھی بدل گئی ہے۔ پاکستانی حکام اب بڑھتے ہوئے انداز میں رابطہ راہداریوں، توانائی کے انضمام اور وسطی ایشیا، خلیج اور بحیرۂ عرب کو ملانے والے مغرب رخی تجارتی راستوں کی بات کرتے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان جنوبی ایشیا کی ایک حاشیائی ریاست کم اور خطوں کو آپس میں جوڑنے والی ایک کڑی نما معیشت زیادہ دکھائی دیتا ہے۔
اس کی علامتی حیثیت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ جنوبی ایشیا، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، اکثر ایسے خطے کو کہا جاتا رہا ہے جس پر بھارت کا حجم، اس کی منڈیاں اور اس کا سیاسی وزن غالب ہے۔ اس گروہ کے اندر پاکستان کی اپنی کہانی بھی اکثر تقابلی انداز میں بیان کی جاتی رہی: بھارت کے مقابلے میں ترقی، بھارت کے مقابلے میں سلامتی، بھارت کے مقابلے میں سفارت کاری۔
مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے گروہ میں منتقلی سے جغرافیہ مٹ نہیں جاتا، اور نہ ہی جنوبی ایشیا بطور ایک جیتی جاگتی حقیقت تحلیل ہوتا ہے۔ پاکستان کے برصغیر بھر میں گہرے ثقافتی، لسانی اور تاریخی رشتے ہیں۔ تجارتی راستوں، نقل مکانی کے رجحانات اور خاندانی تاریخوں کو ڈیٹا بیس کی زبان سے دوبارہ ترتیب نہیں دیا جا سکتا۔
لیکن اس نئی درجہ بندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی ادارے اب پاکستان کو زیادہ وسیع نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ اس کا معاشی انحصار، افرادی قوت کی نقل و حرکت، سلامتی کی اہمیت اور سفارتی رابطے اب مشرق کے ساتھ ساتھ فیصلہ کن طور پر مغرب تک بھی پھیل چکے ہیں۔
وقت کا انتخاب قابلِ توجہ ہے۔ پاکستان خلیج اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ میں جاری ہلچل کے دوران خود کو ایک ایسے پل کی حیثیت سے پیش کرتے ہوئے، جو مختلف بلاکوں کے درمیان بات چیت کر سکتا ہے، زیادہ بڑے علاقائی کردار کا خواہاں رہا ہے۔ اس طرزِ عمل کے ساتھ ساتھ خلیجی دارالحکومتوں سے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں اور پاکستان کو محض ایک بحران زدہ معیشت کے بجائے سرمایہ کاری اور لاجسٹکس کے مرکز کے طور پر پیش کرنے کی نئی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔



