لندن (تھرسڈے ٹائمز) — رائٹرز کے مطابق پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی قائم کرنے کی درخواست کی ہے، جو ملک کے زرمبادلہ کی صورتحال کو نمایاں سہارا دے سکتی ہے اور اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان معاشی تعلقات کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
یہ درخواست ایران تنازع کے دوران پاکستان کے سفارتی کردار کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے اسلام آباد میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ امریکا کے ساتھ قریبی سیاسی روابط وسیع تر معاشی تعاون کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی درخواست میں 10 ارب ڈالر مالیت کی دو طرفہ سہولت کی تجویز دی ہے، جس کی میعاد زیادہ سے زیادہ پانچ سال ہوگی۔
اگر اس کی منظوری دی گئی تو یہ سہولت پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنا سکتی ہے، روپے پر دباؤ کم کر سکتی ہے اور بیرونی مالیات تک رسائی بہتر بنا سکتی ہے، جبکہ ملک آئی ایم ایف (IMF) کے پروگرام کے تحت اصلاحات پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے مبینہ درخواست پر تبصرے سے انکار کیا، جبکہ پاکستان کی وزارت خزانہ نے رائٹرز کو فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو واشنگٹن میں بیسنٹ سے ملاقات کی، جس میں دونوں فریقین نے خطے کی معاشی صورتحال اور دو طرفہ تعاون بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان کی وزارت خزانہ کے مطابق اورنگزیب نے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی بہتر بنانے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگز مضبوط کرنے کے لیے امریکا سے زیادہ تعاون کی درخواست کی۔ دونوں ممالک نے معاشی تعاون کو وسعت دینے، امریکی سرمایہ کاری کی مزید حوصلہ افزائی کرنے اور اسٹریٹجک منصوبوں کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف (IMF) کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام پر عمل درآمد کر رہا ہے، جس کا مقصد سرکاری مالیات کو مضبوط بنانا اور طویل مدتی معاشی استحکام کو سہارا دینا ہے۔
امریکی خزانہ (ٹریژری) اپنے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ کے ذریعے زرمبادلہ کے استحکام کی سہولتیں شاذ و نادر ہی فراہم کرتا ہے، اور ان میں ڈالر کی فنانسنگ، کرنسی سویپ یا مالی ضمانتیں شامل ہو سکتی ہیں، جن کا مقصد کسی ملک کے ذخائر اور کرنسی کو سہارا دینا ہوتا ہے۔
رائٹرز نے نشاندہی کی کہ ارجنٹائن کو 2025 میں ایسی سہولت ملی، جو 2002 میں یوروگوئے کے بعد کسی غیر ملکی حکومت کے لیے پہلا نیا انتظام تھا۔
پاکستان نے 2023 میں آئی ایم ایف کا 3 ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ حاصل کیا، جس کے بعد 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت اور 1.3 ارب ڈالر کے ایک الگ موسمیاتی استحکام کے پروگرام پر اتفاق کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ امریکا کی پشت پناہی والی سہولت ان ذخائر کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کر سکتی ہے اور پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن کو سہارا دے سکتی ہے۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان معاشی روابط ڈیجیٹل فنانس، رئیل اسٹیٹ اور کان کنی تک بھی پھیل چکے ہیں۔ پاکستان نے ورلڈ لبرٹی فنانشل سے منسلک ایک ادارے کے ساتھ اسٹیبل کوائن کا منصوبہ آگے بڑھایا ہے، جبکہ نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کی ازسرنو تعمیر اور ریکوڈک کان کنی منصوبے میں امریکا کی زیادہ شرکت پر بات چیت جاری ہے۔
اگر اس تجویز کردہ سہولت کی منظوری دی گئی تو یہ حالیہ برسوں میں پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ مالی تعاون کی نمایاں ترین مثالوں میں سے ایک ہوگی۔



