واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو بتایا ہے کہ وہ یکم جنوری 2027 سے جنوبی افریقہ اور روانڈا کو اس پروگرام سے خارج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے تحت افریقی ممالک ہزاروں مصنوعات ڈیوٹی کے بغیر امریکہ برآمد کر سکتے ہیں۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا کہ افریقن گروتھ اینڈ اپرچونیٹی ایکٹ کے سالانہ جائزے میں معلوم ہوا کہ دونوں ممالک ایسے طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہیں جو اس کی اہلیت کے قواعد سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا: "ٹرمپ انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ ہمارے افریقی شراکت دار اہلیت کے معیار پر پورا اترنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔"
انتظامیہ نے امریکی تجارت اور سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ خطے میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا۔ روانڈا کے معاملے میں اس نے انسانی حقوق، سیاسی تکثیریت، قانون کی بالادستی اور مزدوروں کے حقوق کا معاملہ بھی اٹھایا۔
یہ اقدام اس کے محض ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ خزانہ نے مشرقی ڈی آر کانگو (DR Congo) میں مسلح بغاوت میں مبینہ کردار پر روانڈا کی وزارتِ دفاع پر پابندیاں عائد کیں۔ محکمہ خزانہ کے مطابق اس نے ہزاروں فوجیوں کو ایم 23 (M23) کے باغیوں کے شانہ بشانہ لڑنے کا حکم دیا اور انہیں اسلحہ، رسد اور تربیت فراہم کی۔
جنوبی افریقہ کے ساتھ تعلقات گزشتہ سال سے کشیدہ ہیں، جب ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صدر سیرل رامافوسا کے ساتھ ملاقات میں اس پر "سفید فام نسل کشی" کا الزام لگایا، جسے جنوبی افریقہ مسترد کرتا ہے، اور افریکانرز کے لیے امریکہ میں پناہ گزینوں کا ایک راستہ کھول دیا۔



