واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — منگل کو مشرقی امریکہ بھر میں پولنگ کا آغاز اب تک بہت کم رکاوٹوں کے ساتھ ہوا، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس پر سوال اٹھاتے رہے کہ آیا انتخاب دیانت دارانہ ہو گا۔
ٹرمپ کی جانب سے وسیع پیمانے پر دھاندلی کے بارے میں مہینوں سے جاری جھوٹے دعووں کے باوجود اب تک ووٹنگ نسبتاً کم مسائل کے ساتھ جاری ہے۔ قبل از وقت ووٹنگ گزشتہ وسط مدتی انتخابات کی سطح کو عبور کرنے کی راہ پر ہے۔
منگل کی صبح سب سے واضح مسئلہ نیویارک کے مضافاتی علاقے ویسٹ چیسٹر کاؤنٹی میں سامنے آیا، جہاں ایوانِ نمائندگان کی ایک سخت مقابلے والی نشست پر دوڑ جاری ہے۔ وہاں ووٹنگ مشینوں کو کاغذی بیلٹ قبول کرنے میں دشواری پیش آئی۔ حکام نے بتایا کہ بیلٹ ہنگامی تھیلوں میں ڈالے جا رہے ہیں تاکہ بعد میں گنے جائیں، وہ محفوظ اور زیرِ نگرانی رہیں گے، اور لوگ ووٹ ڈالنا جاری رکھ سکتے ہیں۔
کولوراڈو، ایریزونا، یوٹاہ اور نیو میکسیکو کے بعض حصوں میں شدید بارش اور اچانک سیلاب کے باعث کچھ لوگوں کے لیے پولنگ مراکز تک پہنچنا مزید مشکل ہونے کا امکان تھا۔ ناواہو نیشن نے اپنے کئی پولنگ مقامات تبدیل کر دیے، جبکہ یوٹاہ کی دیہی سان جوآن کاؤنٹی کے ووٹروں کو الیکٹرانک طریقے سے ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔ حکام نے ڈاک کے ذریعے دیر سے بیلٹ بھیجنے والوں سے بھی کہا ہے کہ وہ ڈاک کی مہر لگنے میں تاخیر کے خدشات کے پیش نظر ڈراپ باکس استعمال کریں یا بیلٹ خود جا کر جمع کرائیں۔
گزشتہ ہفتے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نتائج تسلیم کریں گے، تو ٹرمپ نے جواب دیا: "اگر انتخابات دیانت دارانہ ہوئے تو میں تسلیم کروں گا۔"
انتخابی حکام اور ڈیموکریٹک گروپوں نے اس صورتِ حال کے لیے تیاری کر رکھی تھی کہ امیگریشن اہلکار پولنگ مقامات پر موجود ہوں یا وفاقی افسران مشینیں قبضے میں لے لیں۔ ووٹنگ کے آغاز تک ایسا کچھ نہیں ہوا، اور انتظامیہ نے اصرار کیا ہے کہ پولنگ کی نگرانی کے لیے کوئی مسلح وفاقی اہلکار تعینات نہیں ہو گا۔ محکمۂ انصاف نے پولنگ مقامات پر مبصرین کی ریکارڈ تعداد بھیجی ہے۔
انتظامیہ انتخابات سے پہلے کی اپنی بیشتر عدالتی لڑائیاں ہار چکی ہے۔ پیر کی رات سپریم کورٹ نے اس کی کوشش مسترد کر دی کہ کیلیفورنیا ہزاروں بیلٹ الگ کر دے، جبکہ ایک وفاقی جج نے اسے حکم دیا کہ وہ حکام کو مبینہ غیر شہری ووٹروں کی فہرستیں بھیجنا بند کرے۔ اسی رات اسے ایک فیصلہ اپنے حق میں ملا، جب وفاقی اپیلی عدالت نے 2 کے مقابلے میں 1 ووٹ سے ریاستی انتخابی حکام کو نشانہ بنانے والے اس کے مطالبات اور مقدمہ چلانے کی دھمکیوں کے خلاف دیا گیا حکم معطل کر دیا۔
تحقیق اور ریاستی تحقیقات میں بار بار یہ بات سامنے آئی ہے کہ غیر شہریوں کا ووٹ ڈالنا انتہائی نادر ہے۔ پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح 4 بجے پہلے پولنگ مقامات پر ووٹنگ بند ہوگی اور آخری مقامات پر صبح 11 بجے۔ ہمارا براہ راست نتائج کا کارڈ گنتی کے دوران اپ ڈیٹ ہوتا رہے گا۔



