واشنگٹن (تھرسڈے ٹائمز) — امریکی حکام نے بتایا کہ امریکہ نے پیر کو ایران کے جزیرہ قشم پر حملہ کیا۔ یہ حالیہ ہفتوں میں دانستہ طور پر خاموش رکھے گئے محدود حملوں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ یہ حملہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد ہوا کہ مہینوں سے کوئی لڑائی نہیں ہوئی اور تہران کے ساتھ معاہدہ ہو سکتا ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے اس سے قبل جزیرے پر کئی دھماکوں کی اطلاع دی تھی۔ یہ جزیرہ آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع ہے اور یہاں زیر زمین میزائلوں کا ایک بڑا مرکز، ایک بحری اڈہ اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے کا ایک بڑا پلانٹ موجود ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ محکمہ دفاع نے سوالات اسی کے حوالے کر دیے۔
حکام نے بتایا کہ یہ حملے کئی ہفتوں سے جاری تھے اور انہیں محدود پیمانے پر اور بغیر اعلان کے رکھا جا رہا تھا تاکہ ایران کے خلاف بڑی فوجی مہم دوبارہ شروع کرنے کے کسی ارادے کا اشارہ نہ جائے۔ بعض حکام نے انہیں دفاعی قرار دیا اور کہا کہ ان کا مقصد ایران کو آبنائے میں تجارتی جہازوں پر حملے کی آزادی سے محروم رکھنا ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ حملوں کا ہدف “امریکی اثاثوں کے خلاف زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل استعمال کرنے والے ایرانی” تھے، اور ایک اور اہلکار نے کہا کہ یہ واقعہ “وسیع حملوں کا آغاز” نہیں۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے پیر کو اس سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے قشم کے جنوب میں دو امریکی جاسوس ڈرون قبضے میں لے لیے اور آبنائے کے مشرق میں ایک ایم کیو 9 ڈرون تباہ کر دیا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے بندرگاہ بندر لنگہ میں بھی دھماکوں کی اطلاع دی۔
“ہماری ایران کے ساتھ جنگ ہوئی۔ ہم جیت گئے،” ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں سے کہا۔ “مجھے نہیں معلوم کہ اسے جنگ کہا بھی جائے یا نہیں، کیونکہ ہم مہینوں سے کوئی لڑائی نہیں کر رہے۔” جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ منگل کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے پر غور کر رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا “نہیں”۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے اسی روز کہا تھا کہ واشنگٹن نے “کچھ پیش رفت کی ہے” اور معاہدے کی جانب بڑھا ہے۔
خلیجی ریاستوں کو تیاری کرنے کا کہہ دیا گیا
امریکی حکام نے یہ بھی بتایا کہ سینٹرل کمانڈ نے خطے میں اضافی میزائل دفاعی نظام اور گولہ بارود منتقل کر دیا ہے، اور خلیجی ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد امریکہ کی ایک مختصر مگر شدید کارروائی کے لیے تیار رہیں۔ سینئر حکام نے مزید فضائی حملوں سے لے کر سخت پابندیوں اور ایرانی تجارت کی مزید سخت ناکہ بندی تک کے متبادل پیش کیے ہیں، اور انتظامیہ کے حکام کے مطابق صدر اب بھی ان سب پر غور کر رہے ہیں۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا کہ کسی بھی معاہدے کی ذمہ داری اب واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے، اور انہوں نے ایران کے مطالبات کو معقول قرار دیا۔ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سمیت ایران کی اعلیٰ شخصیات خبردار کر چکی ہیں کہ اگر امریکہ نے تنازع دوبارہ بھڑکایا تو ایران خطے کے اندر بھی اور اس سے باہر بھی جوابی کارروائی کرے گا۔
مذاکرات سے واقف ایک سفارت کار کے مطابق قطری ثالث پیر کی شام تہران پہنچے تاکہ اس معاہدے پر بات چیت دوبارہ شروع کی جا سکے جس کے تحت ایران امریکی پابندیوں میں نرمی کے بدلے آبنائے ہرمز کو جلد دوبارہ کھول دے گا۔ پاکستان بھی پوری جنگ کے دوران ایک مرکزی رابطہ کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
حملے کی خبر کے بعد ایشیائی منڈیوں میں ابتدائی کاروبار کے دوران تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ برینٹ خام تیل تقریباً 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ 105.25 ڈالر فی بیرل پر تھا، جبکہ امریکی خام تیل 96.93 ڈالر پر تھا؛ پیر کو تصفیے کی امیدوں پر دونوں کی قیمتوں میں 7 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔



