اگر ٓاپ بھی بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحریر ای میل کریں — views@thursdaytimes.com


طالبان کی افغانستان پر قبضے کے بعد سماجی ویب سائیٹ پر طرح طرح کے ہیش ٹیگ چلائے گئے۔ہر کسی نے اپنے غم اور کسی نے حواس باختگی سے خوشی کا بھی اظہار کیا۔

طالبان کی دوبارہ کنٹرول میں خوشی کے عالم میں سوشل میڈیا نے خیالات ہم تک نہیں پہنچائے بلکہ حقائق بھی سامنے رکھے جو نائن الیون کے بعد پردوں کے پیچھے تھے۔ طالبان کے خلاف جنگ میں کون امریکہ و ان کے اتحادیوں کا عملی و اخلاقی ساتھ دے رہا تھا یہ پھر درختوں کے چھاؤں تلے،ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں کیا سوچ رہا تھا،کیا زہر اُگل رہا تھا،کون تعریف کر رہا تھا۔سارے حقائق بارہ گھنٹوں کے اندر دنیا کے آنکھوں کے سامنے عیاں ہوتے گئے۔

پاکستان میں موجود رہنما،شخصیات،صارف تو اس لیے طالبان کے حق میں بول رہے تھے کہ یہ داڑھی والے ہیں،مسلمان ہیں اور سچا جہاد کر ریے ہیں اور یہ کہ یہ ایک اسلامی نظام کے پیروکار ہیں۔

طالبان کے حق میں بولنے والے اکثریت اُن لوگوں کی تھی جو نائن الیون سے پہلے طالبان کی حکومت دیکھ چکے تھے یا علم رکھتے تھے مگر کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں اٹھائی کہ ایک سوچ جو افغانستان پر مسلط ہو چکا۔اُس کے سماجی،معاشی اور سیاسی اثرات کیا تھے۔

عالم باور کرتے اور کراتے  گئے کہ طالبان بدل چکے  ہیں۔اب یہ انسانی حقوق و سیاسی حکمت عملی بنا کے افغانستان کو ترقی یافتہ بنائیں گے۔

کسی نے یہ تک بھی نہیں سوچا کہ بیس سال تک گولی چلانے والے،جنگ کرنے والے،بے رحم باریش لوگ، کیا سمجھتے ہیں کہ انسانیت کیا ہے؟کیا یہ انسانی اقدار اور اخلاقی رویہ اپنائیں گے،اگر کریں گے تو کیسے؟

یاد رکھنا ضروری ہے کہ شاید خود کو بدلنے والا ترجمان یہ کہہ سکتا ہے مگر ایک رٹّا رٹایا سبقِ اسلامی جہاد یاد کرنے والا صرف اور صرف مرنا اور مروانا جانتا یے۔

کابل کے جہازی اڈوں کی مثال آپ کے سامنے ہے۔افغانستان کے وہی شہری رش لگائے،اپنی جان گنوائے،ایک بہترین مستقبل کے لیے کیوں امریکہ جانا چاہتے ہیں،کیوں اپنے آباہ و اجداد کے زمین،اپنے بوڑھے ماں،باپ اور اپنے بہن،بھائیوں کو خیر آباد کرکے اشک بار آنکھوں سے جانا چاہتے ہیں؟

ائیرپورٹ پر رش لگانے والوں کی اکثریت طالبان اور ان کی پچھلی حکومت دیکھ چکے ہیں۔ ان کی سیاسی و جہادی نظریات سے بھی واقف ہیں۔اگر انہیں  اپنا مستقبل تابناک نظر آ رہا ہے تو آپ افغانستان کے مستقبل کا اندازہ خود لگائیں۔

رہی بات امریکی انخلا کی،بائیڈن صاحب کچھ دن پہلے فرماتے تھے کہ ہماری فیصلہ بلکل صحیح تھا۔آج جب کابل ائیرپورٹ کے سامنے خودکش حملے میں امریکی فوجی و عام افغان شہری ہلاک ہوتے ہیں تو جذباتی ہو کے فرماتے ہیں ‘ہم بدلہ لیں گے’۔

فرض کریں اگر کل رات میں داعش کے خودکش حملے سے امریکی میرینز کے 12 جوان ہلاک نہ ہوتے تو بائیڈن کیا کہتے؟

سمجھنا ضروری ہے کہ امریکی انخلا سے امریکہ کے بارہ فوجی ہلاک ہونے کی خبر سے بائیڈن جذباتی ہو گئے تھے۔ امریکی انخلا کے بعد ایک تابناک مستقبل،غم،پریشانی،رسم و رواج،موسیقی،امن،انسانی حقوق کھونے والے افغانستان کے افغانوں کے لیے بائیڈن کے منہ سے جذباتی کلمات ادا نہیں ہوئے تھے۔

The contributor, Yousuf Baloch, is a columnist who specialises in discussing human rights violations. Best known for his coverage of current affairs and the state of modern politics, Yousuf can be found on Twitter here.


The views expressed by contributors are their own and are not those of The Thursday Times.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here