spot_img

Columns

Columns

News

مستقبل کا راستہ چن لیا ہے، موجودہ آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو گا۔ وزیراعظم شہباز شریف

مستقبل کا راستہ چن لیا ہے، وعدہ کرتا ہوں موجودہ آئی ایم ایف پروگرام آخری ہو گا، ایسے اداروں کا خاتمہ کیا جائے گا جو پاکستان پر بوجھ بن چکے، ماضی میں جب بھی ترقی کا سفر شروع ہوا کوئی حادثہ ہو گیا۔

خطبہِ حج 1445 ہجری، امام شیخ ماہر بن حمد المعیقلی

اے لوگو! اللّٰه سے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے، اللّٰه تعالٰی اپنی ذات میں واحد ہے، تمام مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں، والدین کا نافرمان نہ دنیا میں کامیاب ہو گا نہ آخرت میں، اللّٰه نے شرک کو حرام کر دیا، فلسطین کے مسلمانوں کیلئے دعا کرتا ہوں۔

عید سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کردی گئی

وزیراعظم شہباز شریف نے عید پر پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے 20 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 33 پیسے کمی کا اعلان کیا ہے۔ نئی قیمتیں آج رات 12 بجے سے نافذ ہوں گی۔ حکومت نے یکم جون کو بھی قیمتیں کم کی تھیں، جس سے عوام کو مجموعی طور پر 35 روپے کا ریلیف ملا ہے۔

عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا خاتمہ جلد ہونے والا ہے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت زیادہ ہے، یہ سلسلہ مولوی تمیز الدین کیس سے شروع ہوا، عدلیہ اس مداخلت کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے اور جلد اس کا خاتمہ ہونے والا ہے، ایک جج کو کسی کا ڈر نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ دنیا کی بہترین کارکردگی والی مارکیٹ بن گئی, امریکی جریدہ بلومبرگ

پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے بہترین کارکردگی کی بنا پر ڈالر میں دنیا کی ٹاپ پرفارمر سٹاک مارکیٹ کا اعزاز حاصل کر لیا ہے، جس میں گزشتہ ایک برس کے دوران تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافہ کو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے اور حکومتی اقدامات کی بدولت مستقبل میں مزید بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔
Op-Ed⁨کیا افغانستان تھا⁩
spot_img

⁨کیا افغانستان تھا⁩

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

اگر ٓاپ بھی بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحریر ای میل کریں — views@thursdaytimes.com


طالبان کی افغانستان پر قبضے کے بعد سماجی ویب سائیٹ پر طرح طرح کے ہیش ٹیگ چلائے گئے۔ہر کسی نے اپنے غم اور کسی نے حواس باختگی سے خوشی کا بھی اظہار کیا۔

طالبان کی دوبارہ کنٹرول میں خوشی کے عالم میں سوشل میڈیا نے خیالات ہم تک نہیں پہنچائے بلکہ حقائق بھی سامنے رکھے جو نائن الیون کے بعد پردوں کے پیچھے تھے۔ طالبان کے خلاف جنگ میں کون امریکہ و ان کے اتحادیوں کا عملی و اخلاقی ساتھ دے رہا تھا یہ پھر درختوں کے چھاؤں تلے،ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں کیا سوچ رہا تھا،کیا زہر اُگل رہا تھا،کون تعریف کر رہا تھا۔سارے حقائق بارہ گھنٹوں کے اندر دنیا کے آنکھوں کے سامنے عیاں ہوتے گئے۔

پاکستان میں موجود رہنما،شخصیات،صارف تو اس لیے طالبان کے حق میں بول رہے تھے کہ یہ داڑھی والے ہیں،مسلمان ہیں اور سچا جہاد کر ریے ہیں اور یہ کہ یہ ایک اسلامی نظام کے پیروکار ہیں۔

طالبان کے حق میں بولنے والے اکثریت اُن لوگوں کی تھی جو نائن الیون سے پہلے طالبان کی حکومت دیکھ چکے تھے یا علم رکھتے تھے مگر کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں اٹھائی کہ ایک سوچ جو افغانستان پر مسلط ہو چکا۔اُس کے سماجی،معاشی اور سیاسی اثرات کیا تھے۔

عالم باور کرتے اور کراتے  گئے کہ طالبان بدل چکے  ہیں۔اب یہ انسانی حقوق و سیاسی حکمت عملی بنا کے افغانستان کو ترقی یافتہ بنائیں گے۔

کسی نے یہ تک بھی نہیں سوچا کہ بیس سال تک گولی چلانے والے،جنگ کرنے والے،بے رحم باریش لوگ، کیا سمجھتے ہیں کہ انسانیت کیا ہے؟کیا یہ انسانی اقدار اور اخلاقی رویہ اپنائیں گے،اگر کریں گے تو کیسے؟

یاد رکھنا ضروری ہے کہ شاید خود کو بدلنے والا ترجمان یہ کہہ سکتا ہے مگر ایک رٹّا رٹایا سبقِ اسلامی جہاد یاد کرنے والا صرف اور صرف مرنا اور مروانا جانتا یے۔

کابل کے جہازی اڈوں کی مثال آپ کے سامنے ہے۔افغانستان کے وہی شہری رش لگائے،اپنی جان گنوائے،ایک بہترین مستقبل کے لیے کیوں امریکہ جانا چاہتے ہیں،کیوں اپنے آباہ و اجداد کے زمین،اپنے بوڑھے ماں،باپ اور اپنے بہن،بھائیوں کو خیر آباد کرکے اشک بار آنکھوں سے جانا چاہتے ہیں؟

ائیرپورٹ پر رش لگانے والوں کی اکثریت طالبان اور ان کی پچھلی حکومت دیکھ چکے ہیں۔ ان کی سیاسی و جہادی نظریات سے بھی واقف ہیں۔اگر انہیں  اپنا مستقبل تابناک نظر آ رہا ہے تو آپ افغانستان کے مستقبل کا اندازہ خود لگائیں۔

رہی بات امریکی انخلا کی،بائیڈن صاحب کچھ دن پہلے فرماتے تھے کہ ہماری فیصلہ بلکل صحیح تھا۔آج جب کابل ائیرپورٹ کے سامنے خودکش حملے میں امریکی فوجی و عام افغان شہری ہلاک ہوتے ہیں تو جذباتی ہو کے فرماتے ہیں ‘ہم بدلہ لیں گے’۔

فرض کریں اگر کل رات میں داعش کے خودکش حملے سے امریکی میرینز کے 12 جوان ہلاک نہ ہوتے تو بائیڈن کیا کہتے؟

سمجھنا ضروری ہے کہ امریکی انخلا سے امریکہ کے بارہ فوجی ہلاک ہونے کی خبر سے بائیڈن جذباتی ہو گئے تھے۔ امریکی انخلا کے بعد ایک تابناک مستقبل،غم،پریشانی،رسم و رواج،موسیقی،امن،انسانی حقوق کھونے والے افغانستان کے افغانوں کے لیے بائیڈن کے منہ سے جذباتی کلمات ادا نہیں ہوئے تھے۔

The contributor, Yousuf Baloch, is a columnist who specialises in discussing human rights violations. Best known for his coverage of current affairs and the state of modern politics, Yousuf can be found on Twitter here.


The views expressed by contributors are their own and are not those of The Thursday Times.

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.
error: