تمہارا ریپ ہوا قصور تمہارا
تم آگ میں جل کر بھسم ہوئے قصور تمہارا
تم برفباری میں پھنس کر مرے قصور تمہارا
موٹر وے پرخاتون اپنے بچوں کیساتھ گاڑی پر سفر کرتی ہے گاڑی کا پٹرول ختم ہوجاتا ہے خاتون بچوں کے سامنے گن پوائنٹ پرریپ کا شکار ہوجاتی ہے بات میڈیا پر آتی ہے توپہلے حکومت وقت کا سی سی پی او خاتون کو مورد الزام ٹھہرا کر وکٹم بلیمنگ کرتا ہے ہے بات یہیں ختم نہیں ہوتی حکومت وقت کا وزیراعظم بھی خاتون کیساتھ ریپ جیسے گھناونے جرم کیوجہ خاتون اور اسکے کپڑوں کو قرار دیکر وکٹم بلیمنگ کرتا ہے
ٹرین کے سفر کے دوران بوگی میں آگ بھڑک اٹھتی ہے جسکی وجہ سے ستر سے زائد لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں حکومت وقت کے وزیرریلوے سامنے آتے ہیں اور اس ٹرین کے مسافروں پر آگ کی ذمہ داری ڈال کر وکٹم بلیمنگ کرکے خود بری الذمہ ہوجاتے ہیں
2022 کا سال شروع ہوتا ہے برفباری کا نظارہ کرنے کیلئے لوگ ہر برس کیطرح مری کا رخ کرتے ہیں محکمہ موسمیات حکومت کو شدید برفباری کی پیشگی اطلاع دیکر کر ممکنہ صورتحال کیلئے تیار رہنے کا کہتا ہے
پانچ جنوری کو حکومت وقت کے وزیراطلاعات بڑے فخر سے ٹویٹر پرآکر کہتے ہیں کہ ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں مری میں داخل ہوچکی ہیں کون کہتا ہے کہ ملکی معیشت ٹھیک نہیں اور پھر اسکے عین دو روز بعد مری کا اندوہناک سانحہ رونما ہوجاتا ہے وزیر موصوف کی ٹویٹ کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کو سیاحوں کی مری میں بـڑی تعداد میں داخلے کا علم تھا لیکن حکومت نے محکمہ موسمیات کی اطلاع کے باوجود اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا مری جانے والے راستے کھلے رکھے اور ضرورت سے کہیں زائد گاڑیوں اور لوگوں کو مری میں داخل ہونے دیا گیا
اس سب کا نتیجہ اندوہناک سانحہ اور معصوم جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آیا لیکن بجائے اسکے کہ حکومت اپنی غلطی تسلیم کرتی حسب سابق ایک مرتبہ پھر آفت کا شکار ہونیوالے لوگوں پر ذمہ داری ڈال کر وکٹم بلیمنگ کرتی ہے کہ مرنے والوں کا اپنا ہی قصورتھا
ریپ ہونے کیوجہ ریپ کا شکار ہونیوالی کا اپنا قصور ٹرین میں آگ سے مرنے والوں کا اپنا قصور اور اب برفباری میں پھنس کر مرنے والوں کا بھی اپنا قصور ہر کام اور بات میں قصورعوام کا ہے لیکن یہ جو ہر بات میں عوام کو قصوروار ٹھہراتے ہیں انکو عوام پرمسلط کرنے کا قصور بھی کیاعوام کا ہی ہے؟ اوران کو مسلط کرنے کیوجہ سے جوعوام کی شامت آئی ہوئی ہے ملک بری صورتحال سے دوچار ہے معیشت کا بھٹہ بیٹھ گیا ہے غربت تو نہیں البتہ غریب کا خاتمہ ہورہا ہے اس سب پرکس وکٹم کو بلیم کرنا ہے؟
!بقول کلیم عاجز
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
∎



