spot_img

Columns

Columns

News

Argentina stun England with dramatic late comeback to reach World Cup Final

Argentina scored twice in the final minutes to complete a dramatic 2-1 comeback over England in Atlanta and advance to a second consecutive FIFA World Cup final.

China now viewed more positively than the US in most countries, Pew finds

For the first time, more people view China favourably than the US across most of 36 countries surveyed, Pew Research Center finds, with more expressing confidence in Xi than Trump. The US leads China in just six countries. In Pakistan, 84% call China a reliable partner against 36% for the US.

پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار 17 ارب امریکی ڈالرز کا قرضہ قبل از وقت ادا کر دیا، مشیرِ خزانہ خرم شہزاد

پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار 4722 ارب روپے (تقریباً 17 امریکی ڈالرز) کا قرض مقررہ وقت سے پہلے ادا کر دیا۔ رواں مالی سال 2900 ارب روپے کی ادائیگیاں ہوئیں۔ ادا کیے گئے قرض میں 51 فیصد سٹیٹ بینک، 49 فیصد دیگر مالیاتی اداروں کا شامل ہے۔ مشیرِ خزانہ

امریکی ایف بی آئی نے جرائم پیشہ نیٹ ورک سے منسلک بھارتی شہری کیلئے مطلوب نوٹس جاری کر دیا

بھارتی شہری نِتیش کوشل کیلئے امریکی ایف بی آئی نے مطلوب نوٹس جاری کر دیا۔ ”آپریشن ہارڈ بال“ میں شامل تین میں سے ایک جرائم پیشہ نیٹ ورک (بھگوانپوریا) سے منسلک نِتیش کوشل کو مسلح و خطرناک شخص قرار دیتے ہوئے ریکٹیئرنگ جرائم پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔

FBI issues wanted notice for Indian national linked to crime network

The FBI has issued a wanted notice for Nitish Kaushal, a 26-year-old Indian national alleged to be an enforcer for the Bhagwanpuria crime network, one of three India-based groups named in Operation Hard Ball. He is wanted on racketeering charges and considered armed and dangerous.
Op-Edریاست ہوگی ماں کے جیسی
spot_img

ریاست ہوگی ماں کے جیسی

جب تک ریاست کا رویہ ماں کی طرح رحمدلانہ، مساویانہ اور شفقت بھرا نہیں ہو گا ایک مستحکم، مضبوط اور پائیدار فلاحی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

Op-Ed
Op-Ed
Want to contribute to The Thursday Times? Get in touch with our submissions team! Email views@thursdaytimes.com
spot_img

“میں یہاں جن حالات میں بچے کو لے کر آتی ہوں وہ سوچتا ہے کہ یہاں کسی کمرے میں اس کا باپ ہو گا۔ اس کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کے باپ کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ بڑا ہو گا تو اس کی سوچ کیا ہو گی اور یہ کیا کرے گا؟ میں یہ سوچتی ہوں کہ جب ہم سکول میں تھے تو جب آرمی چیف کی گاڑی دیکھتے تھے، سیلوٹ میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ ہم نے تو 71 میں فوجیوں کو گفٹ بھیجے، ہمارے دل میں تو فوج کی اتنی عزت تھی بھی اور اب بھی ہے؛ لیکن جب یہ بچہ بڑا ہو گا تو نفرت کی کس سیڑھی پر کھڑا ہو گا؟  میرا دل کانپ جاتا ہے کہ اس طرح کے اور بھی بچے ہیں، ان کی سوچ کیا ہو گی؟ کیا بنے گا؟ 

رندھی ہوئی آواز میں بولنے والی یہ مدثر نارو کی بوڑھی والدہ تھیں۔ جو اسد طور کے پوچھے گئے سوال کا جواب دے رہی تھیں۔

مدثر نارو کی والدہ کے لہجے میں چھپے کرب سے زیادہ مجھے ان کے سوال نے غمزدہ اور پریشان کر دیا اور سوچنے پر مجبور بھی کہ جب ریاست کے پاس آئین و قانون موجود ہے اور وہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد اور قانون شکن عناصر کو قانون کے مطابق گرفتار کر کے عدالتوں سے سزا دلوا سکتی ہے تو پھر ماورائے عدالت لاپتہ کیوں کرتی ہے؟

یہ ایک حقیقت ہے کہ اپنے وہ پیارے جو آنکھوں کے سامنے مر جاتے ہیں ان پر صبر آ جاتا ہے کیونکہ اپنے ان پیاروں کو خود اپنے ہاتھوں مٹی کے حوالے کر دیتے ہیں لیکن وہ جو انجانی راہوں میں کھو جائیں ان پر صبر نہیں آتا۔ ہر لمحہ، ہر گھڑی ان کے لوٹ آنے کی امید بندھی رہتی ہے اور ہر آہٹ پر گماں ہوتا ہے کہ شاید وہ لوٹ آیا۔

بلوچ قوم پرستوں، سندھ قوم پرستوں، سماجی کارکنوں، صحافیوں اور اہلِ علم و دانش کو لاپتہ کرتے ہوئے ریاست یہ حقیقت کیوں فراموش کر دیتی ہے کہ جب ان کے پسماندگان کو یہ جواب نہیں ملتا کہ ان کے پیارے کیوں لاپتہ ہیں تو بدلے کی خواہش ان کے دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے اور ملک دشمن عناصر کے لیے انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مجرم کو سزا دلوانے سے ان کے گھر والے یہ تو جان سکتے ہیں کہ ان کے پیارے کونسی غلط سرگرمیوں میں ملوث تھے اور کس جرم کی انہوں نے سزا پائی؟

یہی بات گزشتہ سال بلوچستان سے اسلام آباد میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دھرنا دینے والی ایک لڑکی نے بھی کی جو اپنے بھائی کی گمشدگی پر افسردہ و غمزدہ تھی اور ریاست کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی کہ شاید کئی سال سے لاپتہ بھائی کا کچھ سراغ مل جائے۔ کچھ نے تو یہاں تک بھی کہا کہ ہمیں بس یہ بتا دیا جائے کہ وہ زندہ ہیں یا مر چکے ہیں؛ تاکہ دل کو صبر آ جائے۔

لاپتہ افراد کے بارے میں جب بھی بات ہوتی ہے تو مجھے عطاء اللہ مینگل کے بڑے بیٹے اسد اللہ مینگل کی گمشدگی یاد آ جاتی ہے۔ یقینی طور پر وہ پاکستان کے پہلے سیاسی لاپتہ تھے جنہیں 1976 میں ان کے دوست کے گھر سے اٹھایا گیا اور غالب امکان یہی ہے کہ اغواء کے دوران ہونے والی مزاحمت میں شدید زخمی ہوئے اور راستے میں کہیں مارے گئے۔ بہرحال بہت سال تک ان کے گھر والے یہ نہیں جان پائے کہ وہ زندہ ہیں بھی یا نہیں۔

عطا اللہ مینگل کہتے ہیں کہ جب 1978 میں ان کے دوسرے بیٹے کے گھر بچے کی ولادت ہوئی اور اس کا نام اسد اللہ رکھا گیا تو مجھے یقین ہو گیا کہ اسد اللہ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔

لاپتہ افراد کا مسئلہ مشرف دور میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شمولیت کے بعد بڑے پیمانے پر سامنے آیا جب ریاستی اداروں نے اولین بلوچ قوم پرست افراد کو اغواء کیا اور پھر یہ سلسلہ سندھی قوم پرستوں سے ہوتے ہوئے سماجی کارکنوں اور صحافیوں تک وسیع ہوتا چلا گیا۔ لاپتہ افراد کا کیس لڑنے والے وکیل کرنل انعام رحیم کہتے ہیں کہ اس وقت دو ہزار دو سو 52 افراد لاپتہ ہیں اور 31جنوری کی ایک رپورٹ کے مطابق 221 افراد کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کی گئی ہیں۔ 2ہزار کا فگر بہت بڑا ہے اور ریاست کو سوچنا ہو گا کہ اگر لاپتہ افراد کے ورثہ ریاست کے خلاف نفرت اور اپنے پیاروں کی گمشدگی کا بدلہ لینے کی سوچ کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں تو ملک دشمن اور تخریبی عناصر کے لیے انہیں استعمال کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔

معاشی ناہمواری اور روزگار کے محدود ہوتے مواقع کے ساتھ ساتھ ریاست کی ماورائے عدالت کاروائیاں معاشرے میں تشدد اور جرائم کو پروان چڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔ ان کا حل سوچنا ریاست کے سیکورٹی اداروں سے منسلک افراد کی ذمہ داری ہے۔ جیسا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “ہم جتنی بھی ڈائریکشنز دے لیں وہ بےمعنی ہو جاتی ہیں اگر ریاست اپنے شہریوں کے اغواء میں خود ملوث ہو۔”

ہمیں تو پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا تھا لیکن اس وقت ہم جس پاکستان میں جی رہے ہیں وہ سیکورٹی سٹیٹ بن کر رہ گیا ہے۔ اس کی وجوہات پر غور کرنے کے لیے جس مخلصانہ رویے اور سوچ کی ضرورت ہے وہ کہیں نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس معاشرے میں تنقید کو غداری اور اصلاح کرنے کی کوششوں کو ملک دشمنی سمجھا جاتا ہے اور ایسے قوانین کو خوش آمدید کہا جاتا ہے جو عوام کو اور اہلِ قلم کو زبان بندی پر مجبور کریں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ مزید بگاڑ سے بچا جا سکے؟ 

ریاست کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ غدار کہنا، وطن دشمن قرار دینا اور اظہارِ رائے پر پابندی لگا دینا ان مسائل کا حل نہیں ہے۔ اگر یہ حل ہوتا تو ہماری تاریخ میں سقوطِ ڈھاکہ نہ ہوتا۔

اگر ہمیں مزید سانحات سے بچنا ہے اور ملک کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کے راستے پر ڈالنا ہے تو ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا ہو گا اور عوام کو وہ تحفظ، اعتماد، تربیت، تعلیم اور شعور دینے کے ساتھ ساتھ بولنے کی آزادی اور آگے بڑھنے کے لیے وسائل بھی مہیا کرنا ہوں گے۔

جب تک ریاست کا رویہ ماں کی طرح رحمدلانہ، مساویانہ اور شفقت بھرا نہیں ہو گا ایک مستحکم، مضبوط اور پائیدار فلاحی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔


The contributor, Naddiyya Athar, is a Master of Urdu Literature with a Bachelors in Education. She has experience teaching at schools and colleges across Pakistan. Being keenly fascinated by the ever-changing scope of politics in the country, Naddiyya is an avid bibliophile.

Reach out to her @naddiyyaathar.

LEAVE A COMMENT

Please enter your comment!
Please enter your name here
This site is protected by reCAPTCHA and the Google Privacy Policy and Terms of Service apply.

The reCAPTCHA verification period has expired. Please reload the page.

Read more

نواز شریف کو سی پیک بنانے کے جرم کی سزا دی گئی

نواز شریف کو ایوانِ اقتدار سے بے دخل کرنے میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ بھرپور طریقے سے شامل تھی۔ تاریخی شواہد منصہ شہود پر ہیں کہ عمران خان کو برسرِ اقتدار لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے اہم کردارادا کیا۔

ثاقب نثار کے جرائم

Saqib Nisar, the former Chief Justice of Pakistan, is the "worst judge in Pakistan's history," writes Hammad Hassan.

عمران خان کا ایجنڈا

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ملک میں افراتفری انتشار پھیلے مگر عمران خان تمام حدیں کراس کر رہے ہیں۔

لوٹ کے بدھو گھر کو آ رہے ہیں

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

حسن نثار! جواب حاضر ہے

Hammad Hassan pens an open letter to Hassan Nisar, relaying his gripes with the controversial journalist.

#JusticeForWomen

In this essay, Reham Khan discusses the overbearing patriarchal systems which plague modern societies.