میں نے کبھی پاکستان کا قانون نہیں توڑا، عمران خان

جسطرح اسلام آباد میں ہوا تو اسطرح حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہینگے اور پھر آپ سری لنکا کو بھول جائیں گے یہ بات اب انقلاب ایران کی طرف چلی جائیگی۔

PTI chairman Imran Khan is shown in a recorded address to party workers. — SCREENGRAB
PTI chairman Imran Khan is shown in a recorded address to party workers. — SCREENGRAB

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ پچاس سال سے میڈیا پرہیں انکی زندگی چھپی ہوئی نہیں وہ جو تھے قوم جانتی ہے یہ بات انہوں نے وڈیو پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔

عمران خان نے کہا کہ پچاس برس سے ساری قوم جانتی ہے کہ انہوں نے کبھی پاکستان کا قانون نہیں توڑا انہوں نے مزید کہا کہ انکے علاوہ کوئی اور پاکستان میں ایسا شخص نہیں جسے قوم پچاس برس سے جانتی ہو۔

اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ جس طرح اسلام آباد میں ہوا اسی لیے انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ عدالت کو وہاں سے شفٹ کردیا جائے کیونکہ انکا کونسا عدالت میں ٹرائل ہونا تھا انہوں نے وہاں صرف حاضری لگانے جانا تھا۔

سربراہ تحریک انصاف نے کہا کہ جب وہ اپنے گھر زمان پارک سے اسلام آباد جانے کیلئے نکلے تو اپنی بیوی کو یہ کہہ کر نکلے کہ یا توانکو جیل میں ڈال دیا جائیگا یا قتل کردیا جائیگا۔

زمان پارک میں ہوئی کاروائی پرعمران خان نے آرمی اور پولیس آفیسرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بتائیں آپ پر کیا بیتے گی انہوں نےمزید کہا کہ کئی آفیسرز بڑے بے غیرت ہوتے ہیں۔

عمران خان نے اس موقع پر قوم سے پوچھا کہ انہیں بتایا جائے چھبیس برس سے وہ سیاست کررہے ہیں کتنی مرتبہ انہوں نے ملک میں انتشار پھیلایا ہے اور گولیاں چلوائی ہیں۔

سربراہ تحریک انصاف نے اس موقع پر عدالتوں سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں سے کہتا ہوں خدا کا واسطہ ہے ملک کو بچائیں کیونکہ صرف یہی ملک کو بچا سکتے ہیں۔

عمران خان نے ملکی صورتحال پربات کرتے ہوئے کہا کہ جسطرح اسلام آباد میں ہوا تواسطرح حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہینگے اور پھر سری لنکا کو بھول جائیں گے یہ بات اب انقلاب ایران کی طرف چلی جائیگی۔∎

TT Staff Reporter

Breaking stories from The Thursday Times' in-house reporter.

اس ڈیسک کی مزید تحریریں

تھرسڈے ٹائمز، ہر صبح

دن کی اہم خبریں، رائے اور سب سے زیادہ پڑھی گئی تحریریں، ایک ای میل میں۔

کبھی بھی ایک کلک سے بند کریں۔

گفتگو

اس خبر پر رائے دی جا سکتی ہے۔ ہر تبصرہ شائع ہونے سے پہلے ایک ایڈیٹر پڑھتا ہے۔

ابھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آپ پہلے ہوں۔