جنرل باجوہ کا بیٹا اور میرا بیٹا
پچھلے دنوں جنرل باجوہ اور ساتھ اُن کے صاحبزادے کو دُبئی میں مٹر گشت کرتے ہوئے سڑک کراس کرنے کے لیے ریڈ سگنل پر بغیر حفاظتی کمانڈوز کے انتظار کرتے دیکھ کر میرا کمزور دل تو ٹوٹ ہی گیا۔

3,837 تحریریں
پچھلے دنوں جنرل باجوہ اور ساتھ اُن کے صاحبزادے کو دُبئی میں مٹر گشت کرتے ہوئے سڑک کراس کرنے کے لیے ریڈ سگنل پر بغیر حفاظتی کمانڈوز کے انتظار کرتے دیکھ کر میرا کمزور دل تو ٹوٹ ہی گیا۔

عمران خان تمہاری 2018 والی سیلیکشن کمیٹی ٹوٹ چکی ہے وہ سیلیکٹرز گھر چلے گئے ہیں بالکہ دونوں ہاتھوں سے کان پکڑ کر کہہ رہے ہیں کہ عمران کا رہنا پاکستان کیلئے خطرہ تھا۔

چیئرمین تحرک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اعتراف کرلیا ہے کہ شوکت خانم کو ملنے والی امداد سے 2008 میں 30 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔

مجھے گرفتاری اور جیل جانے کا کوئی خوف نہیں ہے میں تو جیل چلاجاونگا لیکن کیا یہ حکومت اس کے بعد جو کچھ ہوگا وہ برداشت کر لے گی۔

جو میں کہتا تھا کہ جنرل باجوہ نے میری حکومت گرائی وہ اب سچ ثابت ہوگیا ہے کیونکہ جنرل باجوہ نے ایک انٹرویو میں خود تسلیم کرلیا ہے کہ میری حکومت گرانے میں انکا ہاتھ تھا۔

ایم ایف سے معاہدہ میں مشکلات کی سب سے بنیادی وجہ تحریک انصاف حکومت کی معاہدہ کی خلاف ورزی تھی انہوں نے نہ صرف معاہدہ کو توڑا بالکہ جاتے جاتے اس معاہدہ کو توڑ بھی دیا جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کو پاکستان پر اعتبار نہیں رہا تھا۔

آج اسے کوئی سازش کیلئے حکومت گرانے کیلئے اقتدار کیلئے اسلام آباد بلائے تو یہ دوڑا دوڑا جائیگا لیکن جب عدالت بلاتی ہے تو پلاسٹر دکھا دیتا ہے۔

عمران خان نے سعودی کراون پرنس کو پنجابی میں کوئی ایسی نازیبا بات کی جوعمران خان کی کابینہ کے اپنے ہی وزیر نے سعودی سفیر کو بتا دی جس کا سعودی سفیر نے مختلف لوگوں سے ترجمہ کروایا۔

جنرل پرویز مشرف کی موت پر دیا گیا خلاف معمول اور چونکا دینے والا ردعمل اور مرحوم جسٹس وقار احمد سیٹھ کے فیصلے کی گونج سے تشکیل پاتا منظر نامہ پروپیگنڈے کی بے ثمر اور بوسیدہ شاخوں سے لٹکے ہوئے ماضی سے دامن چھڑاتا بھی نظر آ رہا ھے۔

آج مختلف صحافیوں اور سیاستدانوں کی گرفتاری پر ہمارے پی ٹی آئ کے دوست بہت تلملا رہے ہیں۔ اور پی ٹی آئ کے حامی صحافی اسے ظلم جبر اور انتقامی کارروائ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ کوئ بھی ذی شعور شخص مخالفین کے خلاف اسطرح کے اقدامات کی حمایت نہیں کرسکتا ۔ ہم کل بھی اس کے خلاف تھے آج بھی۔

میری کوشش ہوگی کہ عمران خان جب گرفتاری دینے آئینگے تو انکو اسی سیل میں رکھا جائے جس سیل میں انہوں نے مجھے رکھا تھا۔

میرا لیڈر عمران خان پہلے پاکستان کو آزاد کروائے گا اسکے بعد پھر کشمیر کوآزاد کروایا جائیگا۔

جیل بھرو تحریک کا آغاز زمان پارک سے ہونا چاہیے وہ جو زمان پارک میں چھپ کر بیٹھے ہوئے ہیں انکو چاہیے کہ جو فرسٹ لائن آف ڈیفنس میں خواتین کو رکھا ہوا انکو ہٹائیں آئیں جیل میں جائیں تاکہ آپکو بھی پتہ چلے کہ جیل کیا ہوتی ہے ڈیتھ سیل کیا ہوتا ہے۔

ٹکر کے لوگ ہونے کا دعوی کرنیوالے ٹینکوں کے آگے لیٹنے کا دعوی کرنیوالے دو دو گھنٹے کی گرفتاریوں پر بلک بلک کر رو رہے ہیں یہ پہلی بار بے فیض ہوئے ہیں انہیں سمجھ ہی نہیں آرہی کیونکہ یہ ساری سیاست فیض کے بل پر ہی کرتے تھے۔

عمران خان کا جیل بھرو تحریک کے متعلق اعلان کئی لوگوں کیلئے نیا ہوسکتا ہے لیکن حقیقت میں جیل بھرو تحریک پرعمل درآمد نیا نہیں کیونکہ وہ یہ تحریک تو 2018 سے چلاتے آرہے ہیں جس کیلئے انہوں نے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے لیڈران اور کارکنان کا بھر پور استعمال کیا ہے۔

اگر عمران خان کو توشہ خانہ چوری، فارن فنڈنگ اور اپنی بیٹی کو چھپانے پر سزا ملتی ہے تو وہ کیسے انتقام ہوگیا اسے انتقام نہیں بالکہ احتساب کہتے ہیں

پاکستان کی آج بری حالت اس پانچ کے ٹولے کی وجہ سے ہے جس نے پاکستان کا چار برس میں یہ برا حال کردیا ہے ان کھلاڑیوں اور اناڑیوں نے معیشت پر خود کش حملہ کیا ہے

ہمارا معاشرہ فتنوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، آئے روز ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔

حکومت کواب سارا بوجھ صرف متوسط اور غریب طبقہ پرہی ڈالنا نہیں چاہیے بالکہ اب اشرافیہ پر بھی اس بوجھ کو منتقل کرنا چاہیے کیونکہ جب تک اشرافیہ اس بوجھ کو نہیں اٹھاتی ملکی معاشی صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی اب شارٹ ٹرم کی بجائے لانگ ٹرم اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں۔

جولائی 2017 میں ایک ترقی کرتے ہوئے پاکستان میں اس وقت کے وزراعظم نواز شریف کو اقامہ کا بہانہ بنا کر نکالنا ایک قومی سانحہ تھا کیونکہ وہ دن اور آج کا دن ہے کہ پاکستان سنبھلنے میں ہی نہیں آرہا۔

مسلم لیگ ن ایک مرتبہ پھر عوامی قوت کے طور پر نظر آئیگی میری پوری توجہ مسلم لیگ ن کی ری آرگنائزیشن کرنا اور جماعت کو نئی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔

پلان اے اور بی کی ناکامی کے بعد مجھے مروانے کیلئے آصف زرداری نے طاقتور ایجنسیوں کے ساتھ مل پلان بنایا ہے اور اس کام کیلئے دہشتگرد تنظیم کو پیسے دیے گئے ہیں۔

عمران خان کے ساتھ بیٹھنے والے انکی جماعت کو لے دے گئے ہیں میں نے انکو کہا تھا کہ کیا آپکو پچیس مئی یاد نہیں رہا بار بار آزمائش میں نہ ڈالیں انکو کہہ کہہ کر تھک گیا تھا کہ اسمبلی کو مدت پوری کرنے دیں۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے پاکستان میں ایک بڑی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے یہ عندیہ انہوں نے وزیراعظم پاکستان کیساتھ رحیم یارخان میں میٹنگ میں دیا۔

عمران خان نے کہا کہ حکومت گرانے والے چند کرداروں میں محسن نقوی سب سے اہم کردار ہے جس کو جنرل باجوہ کی سپورٹ حاصل تھی محسن نقوی صاف شفاف الیکشن کروانے نہیں آئے بالکہ ایک سازش کے تحت آئے ہیں تاکہ انکو لانے والوں کی پلاننگ پوری ہوسکے۔

عمران خان کا بشری بی بی سے دو مرتبہ نکاح پڑھایا کیونکہ پہلے نکاح کے بعد مجھے بتایا کہ پہلے نکاح سے پہلے مجھے اصل حقائق نہیں بتائے گئے تھے اسلئے وہ نکاح فاسد قرار پایا اور پھر دوسرا نکاح پڑھایا گیا۔

چیئرمین تحریک انصاف نے اپنی حکومت گرانے کا الزام پہلے امریکہ پھر جنرل باجوہ اسکے بعد آصف زرداری اور نواز شریف پر لگایا اور اب انہوں نے اپنی حکومت گرانے کا الزام پنجاب کے نگران وزیراعلی محسن نقوی پر لگادیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت محسن رضا نقوی کو نگران وزیراعلی مقرر کیا ہے۔

مسلم لیگ ن کی سینئیر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز ہفتہ 28 جنوری رات آٹھ بجے لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ کرینگی

کیا ہم بھول جائیں؟ کیا ہمیں بھولنا ہوگا کہ کہ دوہزار تیرہ میں اقتدار ملتے ہی جرنیلوں نے دھرنے ارینج کروائے کیا ہمیں یہ بھی بھولنا ہوگا کہ ڈان لیکس کروایا گیا اورچیف ایگزیکٹو کا آرڈر ریجیکٹ کیا گیا۔

آستین میں بت چھپائے ان صاحب کو قوم کے حقیقی منتخب نمائندوں نے ان کا زہر نکال کر آئینی طریقے سے حکومت سے نو دو گیارہ کیا تو یہ قوم اور اداروں کی آستین کا سانپ بن گئے اور آٹھ آٹھ آنسو روتے ہوئے ہر کسی پر تین حرف بھیجنے لگے۔

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مشکلات سے باہر نکلے گا اور ہم اسے نکالیں گے اسے اپنے پاوں پر دوبارہ ان شا اللہ کھڑا کرینگے ہم نے پہلے بھی پاکستان کی خدمت کی ہے اور آئیندہ بھی کرینگے۔

تھرسڈے ٹائمز(ایڈیٹوریل ڈیسک) کے انتہائی باخبر ذرائع کیمطابق مسلم لیگ ن کی سینئیر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نوازکی اس ماہ کے آخر تک پاکستان واپسی ہونے جارہی ہے واپسی کی حتمی تاریخ کا اعلان آئیندہ ایک دو روز میں باقائدہ طور پر کیا جائیگا۔

عمران خان نے تحریکِ عدم اعتماد سے بچنے کیلئے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو تاحیات ایکسٹینشن آفر کی، وہاں بات نہ بن تو سکی موصوف نے امریکی سازش کا ڈرامہ رچا کر ریاست کے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تحریکِ عدم اعتماد کو مسترد قرار دلوانے اور آرمی چیف کو بھی فارغ کرنے کی کوشش کی۔

عمران خان کا دو کی بجائے ایک پاکستان اور کرپشن کے خلاف جہاد تو یہ دونوں نعرے نہ صرف محض سیاسی نعرے ثابت ہوئے بلکہ دو پاکستان اور کرپشن کی بنیادوں کو وہ مظبوطی اور پائیداری فراہم کر دی کہ ملک ابھی تک سنبھلنے کا نام نہیں لے رہا
