عمران خان سیاسی تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں، امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ
دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق عمران خان سیاسی طور پر تنہائی کا شکار ہیں، وہ سوشل میڈیا پر ”کی بورڈ وارئیر“ بن کر رہ گئے ہیں جبکہ تحریکِ انصاف انہدام کی طرف گامزن ہے۔

3,837 تحریریں
دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق عمران خان سیاسی طور پر تنہائی کا شکار ہیں، وہ سوشل میڈیا پر ”کی بورڈ وارئیر“ بن کر رہ گئے ہیں جبکہ تحریکِ انصاف انہدام کی طرف گامزن ہے۔

قیادت کا فرق دیکھنا ہے تو 28 مئی 1998 کو دیکھو اور پھر 9 مئی 2023 کو دیکھو، فرق سمجھ آ جائے گا۔

تحریکِ انصاف نے آج رات کیلئے انتہائی گھٹیا ڈرامہ رچانے کی پلاننگ کی تھی تاکہ لوگوں کو گمراہ کیا جا سکے مگر ایجنسیوں کی بروقت کارروائی سے یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔

9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کی منصوبہ بندی زمان پارک میں ہوئی اور اس سب کے پیچھے ملک دشمن قوتوں کا ایجنٹ اور توشہ خانہ چور عمران خان تھا۔ پاکستان کے بدترین دشمن بھی پاکستان پر ایسے حملے نہیں کر سکے جو عمران خان نے 9 مئی کو کروائے، جو پاکستان کے بدترین دشمن نہ کر سکے وہ عمران خان نے کر دکھایا۔

عمران خان کا یورین ٹیسٹ بھی لیا گیا تھا جس کی رپورٹ کے مطابق شراب اور کوکین کے وافر مقدار میں استعمال ہونے کے شواہد ملے ہیں جبکہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق عمران خان کی ذہنی حالت بھی نارمل انسان جیسی نہیں اور اسی لیے ان کی حرکات و سکنات میڈیکلی طور پر ایک فٹ انسان جیسی نہیں ہیں۔

چین نے جون میں قرضوں کی دو اہم ادائیگیوں کو پورا کرنے میں پاکستان کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کی کل مالیت 2.3 بلین ڈالر ہے، توقع ہے کہ 1.3 بلین ڈالر کے تجارتی قرضوں کی ری فنانسنگ اور چین کی جانب سے 1 بلین ڈالر کے قرض سے پاکستان کو فوری طور پر ڈیفالٹ سے بچنے میں مدد ملے گی۔

شہداء کا لہو کسی فرد کا نہیں بلکہ قوم کا قرض ہوتا ہے، شہداء کا لہو وطن کا فخر اور مٹی کی امانت ہوتا ہے، جو اس کی بےقدری کرے وہ صرف غدار ہوتا ہے۔

فیض حمید نے ہی شہزاد اکبر و دیگر افراد کے فرار ہونے میں کردار ادا کیا جبکہ فیض حمید کی باقیات سینیٹ میں بھی دائیں بائیں موجود ہیں

عمران خان کی صورت میں ہٹلر کی پاپولسٹ سیاست کے اس عکس کو دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے ووٹ حاصل کرنے کیلئے کسی شخص کی عوامی پہچان اور سنسنی خیز ہتھکنڈوں کو استعمال کیا گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ اپنے چار سالہ دور میں عمران خان نے اصل حکومت ہی فوجی قیادت کو سونپرکھی تھی اور یہ چار سالہ دور وہ بدترین دور تھا جس کے دوران تمام سویلین اداروں میں اہمعہدوں پر کوئی ریٹائرڈ فوجی اپائنٹ کر کے مستحق سویلینز کی حق تلفی کی گئی۔

عمران خان نے 14 مئی کو زوم میٹنگ کے دوران سب کو 9 مئی کے واقعات کی مذمت سے منع کر دیا اور کہا کہ کوئی بھی دفاعی پالیسی کی جانب نہیں جائے گا۔ عمران خان زوم میٹنگز میں اپنے ترجمانوں کو فوج کے خلاف بیانات دینے کی ہدایات جاری کرتے تھے۔

2019 جنرل عاصم منیر بطور آئی ایس آئی چیف 2019 میں بشری بی بی اور خاندان کے دوسرے افراد کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کرنا چاہتے تھے لیکن عمران خان نے انہیں آئی ایس آئی چیف کے عہدہ سے برطرف کروا دیا۔

سابق وزیراعظم نے امریکی کانگریس کی خاتون رکن میکسین واٹرز سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ عمران خان اور تحریکِ انصاف کے حق میں کوئی بیان جاری کریں کیونکہ ان کا بیان پاکستان میں ارتعاش پیدا کریگا جو پاکستان کے موجودہ حالات میں عمران خان اور تحریکِ انصاف کیلئے مددگار ہو گا۔

میرے حامیوں کو معلوم ہے کہ مجھے قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس کے پیچھے حکومت کا ہاتھ تھا جبکہ اس واقعہ کی تحقیقات بھی نہیں کی گئیں۔جب مجھے فوج نے اغواء کروایا تو ایسا سخت ردعمل تو آنا ہی تھا۔

کسی سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں ہونا چاہیے مگر عدلیہ کی موجودہ حالت سب کے سامنے ہے جہاں توشہ خانہ اور دیگر کیسز میں بھی سٹے دے دیا گیا، ریاست مظلوم کی حیثیت سے انصاف کی منتظر ہے مگر چیف جسٹس آئین کی بجائے لاڈلے اور ساس کے قانون کے تحت ایک جماعت کیلئے سہولت کاری کر رہے ہیں۔

سابق وزیراعظم نے امریکی کانگریس کی خاتون رکن میکسین واٹرز سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ عمران خان اور تحریکِ انصاف کے حق میں کوئی بیان جاری کریں کیونکہ ان کا بیان پاکستان کے موجودہ حالات میں عمران خان اور تحریکِ انصاف کیلئے مددگار ہو گا۔

تحریک انصاف کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعہ بنائی گئی خاتون کی تصویر کو اصل خاتون کی تصویر بتاتے ہوئے وسیع پیمانے پر پھیلایا اور مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا، یہاں تک کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”فیس بک“ پر اس تصویر کو تحریکِ انصاف کے آفیشل پیج سے بھی شیئر گیا۔

ذرائع کے مطابق تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کو 9 اور 10 مئی کے ریاست مخالف احتجاج اور بدترین جلاؤ گھیراؤ کے بعد مقتدر قوتوں کے جانب سے دو راستوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کے پیغامات بھجوائے جا رہے ہیں۔

بدقسمتی سے معصوم بچوں کی ذہن سازی میں عمران خان سمیت اداروں میں بیٹھے کچھ لوگوں نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا، ذہن سازی کرنے والے اور ان کے بچے عیش و عشرت کی زندگیاں گزار رہے ہیں جبکہ گمراہ ہونے والے بچے جیلوں میں ہیں اور ان کے والدین کورٹ کچہریوں میں روتے بلکتے دھکے کھا رہے ہیں۔

بشریٰ بی بی نے ہی عمران خان کو القادر ٹرسٹ کے نام سے ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم بنانے کیلئے راغب کیا جس کے تحت اسلام آباد سے باہر مبینہ طور پر روحانیت اور اسلامی تعلیمات سے وابستہ ایک یونیورسٹی چلائی جا رہی ہے جبکہ یہی ٹرسٹ عمران خان اور بشریٰ کے خلاف کرپشن کے الزامات کا حصہ ہے۔

عمران خان تم نواز شریف اور ہر اس شخص سے معافی مانگو جس پر تم نے جھوٹے الزام لگائے اور انھیں تکلیف پہنچائی۔ یہ گرہیں جو تمھیں دانتوں سے کھولنی پڑ رہی ہیں تم نے خود لگائیں تھیں۔ کبھی تکبر اور رعونت کا پہاڑ ہوا کرتے تھے، آج عبرت کا نشان بنے بیٹھے ہو۔

انٹیلی جینس کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں میں شامل 30 سے 40 دہشتگرد افراد زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ایک دہائی تک سیاسی طور پر حزبِ اختلاف میں رہنے کے بعد عمران خان نے قوم پرست ایجنڈا اپنانا شروع کیا اور اسلام پسند اور مغرب مخالف بیانیہ اپناتے ہوئے خود کو ایک متقی مسلمان کے طور پر پیش کیا حالانکہ اس سے پہلے وہ مغرب زدہ شخص اور ایک پلے بوائے کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ پندرہ روز کیلئے پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا بڑا اعلان سنا دیا۔

سپریم کورٹ کی جس عمارت سے انصاف ملنا تھا، وہاں بیٹھ کر کچھ سہولت کار انصاف کا قتل کر رہے ہیں۔ تمہارے قلم کو طاقت ملک کے منتخب نمائندوں نے دی ہے۔ کسی کو آئین کو ازسرنوتحریر کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

پچھلے کچھ دنوں میں پاکستان کے جو حالات رہے اور دنیا کو جو مناظر دیکھنے کیلئے فراہم کیے گئے وہ بہت تکلیف دہ تھے۔

ان فیصلوں سے ریاست کی رٹ اور قانون کی گرفت کمزور ہوئی ہے جبکہ عدالتی وقار بھی مجروح ہوا ہے اور پولیس و دیگر اداروں کی بھی توہین کی گئی ہے۔

ملک ریاض سے حاصل کی گئی زمین پر القادر یونیورسٹی بنائی کیونکہ اس یونیورسٹی کے ذریعہ وہ پاکستان کو مستقبل کیلئے سیرت النبی پر عمل کرنے والی صادق و امین قیادت فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

سوالات تو بہت سارے ہیں اور یقیناً جواب طلب ہیں مگر یہاں صرف ایک ہی سوال پر اکتفا کیا جا رہا ہے کہ کیا عمران خان ریاست کے تمام قوانین سے بالاتر ہیں؟

لاہور کے کور کمانڈر نے تحریکِ انصاف کے کارکنان کو اندر تو داخل ہونے دیا مگر اس کے بعد معاملات کو قابو نہ کر سکے، کور کمانڈر نے سیکیورٹی سٹاف کو سویلین کپڑے پہننے کی تلقین کی اور پھر سامان اٹھا کر اہلِ خانہ کے ہمراہ دوسرے راستہ سے نکل گئے۔


تحریک انصاف اور عمران خان پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک سبق ہے کہ سرکار! اپنے آئینی دائرہ کار میں رہیں اور اس کام میں ہاتھ نہ ڈالیں جس کی آئین آپ کو اجازت نہیں دیتا کیونکہ سیانے کہتے ہیں جس کا کام اسی کو ساجھے؛ اور کرے توٹھینگا باجے۔

مذموم منصوبہ بندی کے تحت گھناؤنی کوشش کی گئی کہ فوج اپنا فوری ردِ عمل دے تاکہ اسکو پنے مذموم سیاسی مقاصد کےلیے استعمال کیا جاسکے لیکن فوج کے سنجیدہ ردعمل نے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے آج عمران خان کی گرفتاری کا نوٹس لیا تھا جس میں سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد کو طلب کیا گیا تھا۔ عدالت کی جانب سے سماعت کے فوری بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا جو کہ اب سنا دیا گیا ہے۔ فیصلے کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کو قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔

عمران خان کے دور میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے 190 ملین پاونڈز رہکور کر کے پاکستان کو دیئے تو عمران خان نے بطور وزیراعظم وہ رقم پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کروانے کی بجائے اسی بزنس ٹائیکون کی جیب میں ڈال دی۔

اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے دوران چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا۔ عمران خان کو نیب کے حکم پر رینجرز نے القادر ٹرست کیس میں گرفتار کیا ہے۔
