کرپشن کا تسلسل
اگر کسی کو غصہ چڑھتا ھے یا ناراض ہوتا ھے تو ناراض ہونے کی بجائے اپنی کرتوتوں کو ٹھیک کر لے ورنہ غصہ بھی ہونے دیں اور ناراض بھی ہونے دیں۔ کیا فرق پڑتا ہے۔

338 تحریریں
اگر کسی کو غصہ چڑھتا ھے یا ناراض ہوتا ھے تو ناراض ہونے کی بجائے اپنی کرتوتوں کو ٹھیک کر لے ورنہ غصہ بھی ہونے دیں اور ناراض بھی ہونے دیں۔ کیا فرق پڑتا ہے۔

گاڑی کے ریڈی ایٹر کا مسئلہ ہے اور میں ورکشاپ میں ہوں۔ ڈیئر تم سپر مارکیٹ آ جاو میں گاڑی ٹھیک کروا کے تھوڑی دیر میں پہنچ رہا ہوں۔

تجربہ کاروں اور پریکٹیشنرز کے ساتھ تعلیم اور تربیت انسانوں کو خوش کرتی ہے۔ تعلیم علم اور عقل کو بڑھاتی ہے، اور جب بات افراد کی ہو تو علم ایک جامع زندگی گزارنے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس دنیا میں بچہ جب آنکھ کھولتا ہے تو وہ مقدس، معصوم اور جاہل ہوتا ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بچہ خدا کا روپ ہے۔

یا تحریکِ انصاف کی حکومت کا خاتمہ اندھے کننویں میں چھلانگ لگانے کی سی حرکتِ مذبوحی تھی؟ ہر گز نہیں پی ڈی ایم کی قیادت بہت عرصے سے اس معاملے کا ہمہ جہتی جائزہ لے رہی تھی اور ہر پہلو سے اس کے نتائج اور عواقب پر غور کر رہی تھی۔جیسا کہ سابق وزیر داخلہ اس کا اعتراف کر چکے ہیں کہ انھیں ”بتا“ دیا گیا تھا کہ آپ کی حکومت جارہی ہے۔

ماحول خاصہ گرما گرم تھا۔ درخواست گزاروں کا آنا جانا جاری تھا۔ مائیک آن اور تقریریں،مذمتیں ہو رہی تھیں۔ آنسو بہہ رہی تھیں،دل دھڑک رہی تھیں۔ گہماگہمی کی سما تھیں لیکن یکجہتی کرنے والے حسابی تھے اور ہر رنگ و نسل کے لوگ تھے۔ البتہ مدعی اور مؤقل کا موقف اور مطالبہ ایک ہی تھا۔ چہرے ہزار۔

ستر کی دہائی میں گارڈن کالج راولپنڈی میں طلباء سیاست کے میدان میں قدم رکھنے والے پرویز رشید درحقیقت ایک ناقابلِ تسخیر سیاسی نظریہ کا نام ہیں۔ چی گویرا سے متاثر انقلابی نظریات رکھنے والے پرویز رشید طالبعلمی کے دور سے ہی ایک غیر طبقاتی معاشرے کے قیام کا خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں۔

الانہ بجٹ آج کی دنیا کا ایک ایسا معروف عمل ہے جس سے کوئی بھی نا آشنا نہیں ہوگا۔ حکومتیں ہر سال اپنی آمد وخرچ کا ایک حساب تیار کرتی ہیں اور سال بھر اس کے مطابق آمدن حاصل کرتی اور بجٹ میں مقرر کردہ اہداف کے مطابق خرچ کرتی ہیں۔

والے بلوچ طلبا کتاب کو بیگ میں رکھ کر جائے تو لاپتہ ہونے کا خوف پیچھے کرتے ہوئے ہمسفر بن کے جاتا ہے۔ لٹریچر کی رومانوی داستان ہو یا سائنسی علوم سب کچھ خوف کے سائے میں پڑھتا ہے۔

دین کے حوالے سے اس کا مطالعہ بھی اچھا تھا. گفتگو کا ہنر بھی کمال کا تھا۔

ستانیز ایک وسیع المعانی لفظ ہے، جس کا ان تمام پاکستانیوں پر اطلاق ہوتا ہے جو پاکستان کے باہر کسی بھی وجہ سے عارضی، مستقل، یا ہمیشہ کے لئے کسی اور ملک کی شہریت لے کر بیرون ملک مقیم ہوں۔

اپنے دور میں ترقی کے بلند دعوے کرتے رہتے والے عمران خان کی باتیں سن کر ہماری سادہ لوح قوم یہ سمجھتی رہی کہ شاید خان صاحب ہماری ترقی کی بات کر رہے ہیں جبکہ اصل میں خان صاحب قومی ترقی کی نہیں گوگی کی ترقی کی بات کرتے تھے۔

ی مخلوط حکومت کو آتے ہی پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑا جس سے عام عوام شدید متاثر ہوئی اور ظاہر ہے سخت ردعمل بھی دے رہی ہے جبکہ یہ سب عمران خان کے عوام دشمن معاہدے کے تحت قیمتوں میں اضافہ کیا گیا جو اس نے آئی ایم ایف سے کئے، اب جبکہ یہ مہنگائی عوام پر لاگو ہوہی چکی ہے تو کچھ بوجھ کیوں نہ اشرافیہ پر بھی ڈالا جائے

آج پیچھے مڑ کر دیکھیں تو احساس ہو گا کہ مسئلہ عمران خان نہیں اصل مسئلہ وہ سوچ ہے جو ہر دس سال کے بعد جمہوریت پر حملہ آور ہوتی ہے،ایسے ہائیبرڈ نظام تشکیل کرتی ہے۔ ایسے مہرے ایجاد کرتی ہے۔

ن دن اور ایک بھیانک یاد کی صوعت میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔میں اپنی ذاتی وجوہ اور کچھ گرد بیٹھنے کے انتظار میں یہ کالم کچھ تاخیر سے پیش کر رہا ہوں۔

ملک توڑنے اور فوج کے تباہ ہونے کی بات کوئی اور نہیں وہ شخص کررہا ہے جو پاکستان کے سب سے بڑے عہدے پر تقریبا پونے چار برس براجمان رہا جسکو اس عہدے تک لانے کیلئے وہی اسٹیبلشمنٹ وہی فوج جسکے تباہ ہونے کی باتیں عمران نیازی کی جانب سے آج کی جارہی ہیں نے بھرپورکردارادا کیا۔

عمران خان کو جلسوں کے دوران سٹیج پر لالٹین تباہ دے اور اسلامی ٹچ کے مشورے دینے والے ”اعلی ذھانت کے حامل“ مشیروں نے ایک مقبول سیاسی لیڈر کو اس طرف دھکیلا جہاں سے گالم گلوچ بہتان طرازی الزامات جھوٹ اور فریب کاری کے علاوہ کچھ برآمد ہی نہیں ہو رہا۔

جب فیض یابی کا دست شفقت سرہرچھتر چھایہ موجود ہو توہر قسم کا بینیفٹ آف ڈاوٹ دینے دلانے کا کام تسلی بخش طریقہ سے کیا جاتا ہے۔

غالب اس دور میں ہوتے تو دل اور جگر کو رونے پیٹنے کے علاوہ منہ اور بال نوچنے کی ترکیب کا بھی استعمال کرتے کیونکہ اس وقت تقریباً ہر باشعور پاکستانی کی یہی حالت ہے۔


مریم نواز کا ”قصور“ محض یہ ہے کہ انہوں نے ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایاجوعمران خان جیسے پدرسری معاشرے کےنمائندے کو برداشت نہیں اس محدود سوچ کے حامل کو آسان راستہ یہی نظر آیا کہ بازاروں کےتھڑا باز لچے لفنگوں کی طرح ایک معزز خاتون پر کیچڑ اچھالا جائے۔



وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وزیراعلی پنجاب میاں حمزہ شہباز جب اپوزیشن لیڈر کے طور پر اسمبلیوں میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان اور انکے مشیر احتساب مرزا شہزاد اکبر نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کیخلاف نیب، ایف آئی اے کی مدد سے چند کیسز انکے خلاف دائر کیے جو ابھی تک عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

اگر میں نہیں تو کوئی بھی نہیں اگر میں نہیں تو کچھ نہیں بچے گا نہ یہ دھرتی نہ اس دھرتی کے باسی نہ اس دھرتی کے محافظ کیوں کہ میری ”میں“ سب سے بڑی ہے۔

ایلون مسک ہمارے نوجواں کے لئے شاید پہلے ہی بالکل اجنبی نہ ہولیکن جبسے اس نے ٹویٹر خریدا ہے ہر چھوٹا بڑا نوجوان بوڑھا اسے پہچاننے لگ گیا ہے۔


عالم پناہ اپنی تیوری چڑھا کر ملکہ عالیہ کیطرف نظر اٹھاتے ہیں تو حجاب میں لپٹی ملکہ آستانہ عالیہ بادشاہ سلامت کے کان میں سرگوشی کرتے فرماتی ہیں مولا خوش رکھے آپ ہی نے تو گوگی کو معاملات طے کرنا بھیجا ہے۔

معیشت کی دنیا میں اسے پیڈلنگ کا نام دیا جاتا ہے اور قانونی اعتبار سے یہ ایک ضابطگی تصور کی جاتی ہے۔ قصہ کچھ یوں ہوا کہ سنہ 2011 اور 2014 کے درمیان برزایلین حکومت نے دو قومی بینکوں ، کائیشا اکنامکا فیدرال (Caixa Econômica Federal) اور بینکو دا برزایل (Banco do Brasil) سے غیراعلانیہ قرض حاصل کیا اور اسے سماجی ترقی کے مختلف منصوبوں کے لیے خرچ کرڈالا۔ بظاہر اس عمل کا مقصد یہ تھا کہ اس وقت کی حکمران جماعت یعنی ورکرز پارٹی کے آئندہ انتخابات میں فتح کے امکانات کو روشن کیا جاسکے۔



عمران خان جھوٹ بولنے میں اس قدر مہارت رکھتا ہے کہ اس کے ہر جھوٹ پر لوگوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد آنکھیں بند کر کے یقین کرتی ہے۔




بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ عمران خان کی ان رکیک حرکتوں کے پیچھے فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے۔ ابراج گروپ کی رقموں کا حساب ہے۔ اس کیس کا جیسے ہی فیصلہ آئے گا لوگوں کو بات سمجھ آ جائے گی کہ کس طرح ایک کرپٹ شخص نے ملکی سلامتی کو داو پر لگا کر ذاتی فوائد حاصل کیئے۔

ہوئے ادارے کا ترجمان ذمہ دارانہ سنجیدگی کے ساتھ بتاتا ہے کہ اس ملک میں اب کوئی مارشل لاء نہیں لگے گا بلکہ یہاں تک کھل کر بتا دیتا ھے کہ کوئی ایکسٹینشن زیر غور نہیں اور اعلی عہدے سے ریٹائرمنٹ بھی اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوگی۔

شہباز سپیڈ نے وفاق میں اپنی جو رفتار دکھانا شروع کر دی ہے وہ لوگوں کے لیئے حیرت کا سبب ہے ۔ لوگوں کو اس طرح کے وزیر اعظم کی عادت ہی نہیں رہی۔ کیونکہ ابھی تک شہاز شریف نے نہ کسی خطاب میں عمران خان کو گالیاں دی ہیں نہ ان پر غداری کا الزام لگایا ہے۔


گو کہ ولی خان نے بارہا کہا تھا کہ جس دن پنجاب ایسٹبلشمنٹ کے مقابل آیا تو اسی دن سے پاکستان صحیح ٹریک پر آنا شروع ہو جائے گا لیکن یہ اشارہ پنجابی لیڈر شپ کی طرف تھا کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ولی خان جیسے جہاندیدہ سیاستدان پنجاب کے سیاسی مزاج اور تاریخی حقائق سے واقفیت نہ رکھتا۔
