افتخار محمد چوہدری کے بعد سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے کرتوتوں سے ہر شخص واقف ہے۔ اس درندہ صفت انسان نے نواز شریف اور شہباز شریف سے دشمنی کی بنا پر پاکستان لیور اینڈ کڈنی ہسپتال کا بیڑہ غرق کیا اور اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا۔ اس کے علاوہ اس جج نے "ڈیم فنڈ" کے نام پر پاکستانی قوم کو چونا لگایا اور آج تک ان چندے کے پیسوں کا کوئی حساب ہی نہیں ہے کہ جو اربوں روپے اکٹھے کیے گئے تھے وہ کہاں ہیں؟ چند ماہ قبل جب ثاقب نثار سے چندے کے پیسوں کے متعلق سوال کیا گیا کہ وہ پیسہ کہاں ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میری چئیرمن واپڈا سے بات چیت ہوتی رہتی ہے اور وہ پیسہ ہم نے انویسٹ کیا ہے جس کا منافع ہمیں مل رہا ہے۔ یہاں پر پاکستانی قوم ثاقب نثار سے سوال پوچھتی ہے کہ ہم نے آپ کو پیسہ ڈیم بنانے کے لیے دیا تھا ناکہ انویسٹ کرنے کے لیے۔ اگر آپ نے پیسہ انویسٹ کرنا ہے تو اپنے ذاتی پیسوں میں سے کریں اور اس میں سے منافع کمائیں۔ آپ کو کس نے حق دیا ہے کہ آپ چندے کے پیسوں کو بطور کاروبار استعمال کریں۔ یقیناً یہ کرپشن کا بہت بڑا سکینڈل ہے اور جب کوئی حکومت ان چندے کے پیسوں کا آڈٹ کروائے گی تو ثاقب نثار کے علاوہ اور بہت سے کردار منظر عام پر آئیں گے جنہوں نے پاکستانی قوم کو چونا لگایا۔